کأس الیقین۔ ولا ترکَنْ إلٰی أخلّاءِ دنیاک، فإنہم یعادونک إذ اللّٰہ عاداک، فتبقی مخذولا مردودًا وتصیر من الملومین۔
وکَمْ مِن نَدامَی
أدارُوا الکُؤوسَا وفی آخِرِ الأَمْرِ شَجُّوا الرُّؤوسَا
إِلی ما تُداجِی شریرًا عَموسَا فَدَعْ وَاذْکُرَنْ قَمْطرِیرًا عَبوسَا
ولا تَخْشَ قومًا یُبیدون جِسْمًا وَخَفْ قَہْرَ ربٍّ یُبیدُ النفوسَا
فثبت من ہذا التحقیق اللطیف أنّ لفظ
النصف الذی جاء فی حدیث الإمام التقی العفیف، لیس المراد منہ کسوف الشمس فی نصف ذلک الشہر الشریف کما فہِمہ بعضٌ من ذوی الرأی الضعیف وأصرّوا علیہ کالغبیّ السخیف والمعاند العِتْرِیف، وما
فکّروا کالعاقلین المنصِفین، بل المراد من قولہ وتنکسف الشمس فی النصف منہ أن یظہر کسوفُ الشمس منصِّفًا أیّامَ الانکساف، ولا یُجاوز نصفَ النہار من یوم ثان
پلا دے اور اپنے دنیا کے دوستوں کی
طرف مت جھک کیونکہ جب خدا تعالیٰ تجھے دشمن
قرار دے گا تو وہ بھی تجھ سے دشمنی کریں گے تو پھر تو مخذول مردود رہ جائے گا اور ملامت زدہ ہو گا۔
اور بہت سے حریفان شراب ہیں جو
آپس میں پیالے پھیرتے تھے او رآخر میں ایک دوسرے کے سر توڑے
کہاں تک توشریر ظالم سے مدارات کرے گا۔ سو چھوڑ اور اس دن کو یاد کر جو قمطریر اور عبوس ہے
اور ان لوگوں سے مت
ڈر جو جسم کو مارتے ہیں اور اس رب سے ڈر جو جانوں کو ہلاک کرتا ہے۔
سو اس تحقیق لطیف سے ثابت ہوا کہ جو لفظ نصف کا جو حدیث
امام باقر میں آیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ
سورج گرہن اس مہینہ کے نصف میں ہوگا
جیسا کہ بعض ضعیف الرائے آدمیوں نے سمجھا اور اس پر ایسا ہی
اصرار کیا کہ جیسے ایک غبی کم عقل یا معاند گستاخ اصرار کرتا ہے اور عقلمندوں
اور منصفوں کی طرح نہیں سوچا
بلکہ اس کو یہ قول کہ سورج گرہن اس کے نصف میں ہوگا اس سے یہ مراد ہے کہ سورج گرہن
ایسے طور سے ظاہر ہوگا کہ ایام کسوف کو نصفا نصف کر دے
گا اور کسوف کے دنوں میں سے دوسرے دن کے نصف سے