للمسیح الموعود وللمہدی المسعود، وأمّا الدیار الأخری فلا مہدی فیہا ولا عیسی، ولأجل ذلک ما ظہر الخسوف ولاالکسوف فی دیار العرب وبلاد الشام، لیزیل اللّٰہ ظنون العوام، ویُبطل خیالات المبطلین۔ والسرّ فی ذلک أن مُلْکَنا البنجاب کان فی علم اللّٰہ مَولدًا للمسیح الموعود والمہدی المسعود، فأراد اللّٰہ أن یہدی الخَلق إلیہ بتخصیص الإمارات وتعیین العلامات، لیعرفوا المدّعی بالآیات والداعی بالکرامات۔ وأمّا إذا فرضنا ظہورَ آیات المہدی فی مُلکنا ہذا وظہورَ المہدی فی بلادٍ أُخریٰ، فہذا لیس من المعقول، ولیس لہ أثر فی المنقول، ومعؔ ذٰلک لا یوجد فیہا مَن ادّعی أنّہ مہدی الزمان ومُرسَلُ الرحمٰن، فتعیّنَ بدلیل الخُلْف صدقُنا عند ذوی العرفان فیا مُتّبِعَ العثرات والمعائب أَمْعِنْ فی ہذا بالفکر الصائب، لعل اللّٰہ یخلّصک من شبکۃ الشیاطین، ویسقیک مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان کے لئے محدود ہے مگر دوسری ولائتیں پس اُن میں نہ مہدی ہے نہ عیسیٰ اور اسی جہت سے خسوف اور کسوف دیار عرب اور بلاد شام میں ظاہر نہیں ہوا تاکہ خدا تعالیٰ عوام کے ظنون کو دور کر دے اور باطل پرستوں کے خیالات کو دور فرماوے اور اس میں بھید یہ ہے کہ ہمارا ملک پنجاب خدا تعالیٰ کے علم میں مسیح موعود اور مہدی مسعود کا مولد تھا۔ پس خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ نشانوں اور علامتوں کو خاص کرکے خلقت کو اس کی طرف رہنمائی کرے تاکہ لوگ مسیحیت اور مہدویت کے مدعی کو اس کے نشانوں اور کرامات سے شناخت کر لیں لیکن اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ مہدی کا نشان تو ہمارے ملک میں ظاہر ہوا اور مہدی کا ظہور کسی اور ملک میں ہوگا تو یہ خیال معقول نہیں ہے اور منقول میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا اور باوجود اس کے دوسرے ملکوں میں ایسے شخص کا پتہ نہیں ملتا جس نے مہدی الزمان اور مرسل الرحمان ہونے کا دعویٰ کیا ہو پس دلیل خلف کے رو سے اہل معرفت کے نزدیک ہمارا صدق ثابت ہوا پس اے لغزشوں اور عیبوں کے پیروی کرنے والے اس کلام میں اچھی طرح غور کر شاید خدا تعالیٰ تجھے شیاطین کے جال سے خلاصی بخشے اور یقین کے پیالے