کما ہو الظاہر عند ز!کیّ ذی عِرْفان۔ وکذلک خُسِفَ القمر ورآہ کثیر من أہل ہذہ البلدان۔ وحسبُک ما رأیتَ، بل برؤیتہ صلّیتَ، وتبیّنَ
الحق المنیر، وتقطّعت المعاذیر، فلا تکن من المرتابین۔
أَیَاؔ مَنْ یدَّعِی عَقْلًا وفَہْمًا إِلٰی مَا تُؤْثِرَنْ وَعْثًا ووَہْمًا
أَتَحْسَبُ نَارَ غَضْبِ اللّٰہِ رِزْقًا أَ تَجْعَلُ سَہْمَ قَہْرِ اللّٰہِ سَہْمًا
لا یُقال إن الخسوف فی أوّلِ وقتِ
لیلۃِ رمضان ما ظہر إلا فی البنجاب وما یلیہ من البلدان، وما رُءِیَ أثرُہ فی غیر ہذہ الأماکن فما تمّ البُرہان لأنّا نقول إن المقصد أیضا محدود فی ہٰذہ البلدان، فإنہا ہی المظہر
جیسا کہ ایک دانا صاحب معرفت
کے نزدیک یہ بات ظاہر ہے اور اسی طرح چاند گرہن ہوا اور بہتوں نے اس
ملک کے لوگوں میں سے دیکھا اور جو تو نے آپ دیکھ لیا بلکہ دیکھ کر نماز بھی پڑھی وہ تیرے لئے کافی ہے
اور حق
کھل گیا اور تمام عذر ٹوٹ گئے۔ پس اب تو تردد نہ کر۔
اے وہ آدمی جو عقل اور فہم کا دعویٰ کرتا ہے کب تک تو وہم اور پھسلنے کی جگہ کو اختیار کرے گا
کیا تو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ کو
ایک رزق خیال کرتا ہے کیا تو خدا تعالیٰ کے قہر کے تیر کو ایک حصہ خیال کرتا ہے
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ رمضان کی اول رات میں گرہن صرف پنجاب اور اس کے قرب و جوار
کے ملکوں
میں ظاہر ہوا ہے اور اس کا نشان دوسرے ملکوں میں ظاہر نہیں ہوا پس دلیل ناقص رہی کیونکہ
ہم کہتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا مقصد بھی انہیں ملکوں میں محدود ہے اس لئے کہ یہی ملک
بقیہ
حاشیہ
ان ؔ ھٰذا امر بدیہی البطلان واعجبنی شان تلک الرواۃ الم یکن لھم نظرا الی البدیھیات الم یعلموہ
یہ امر بدیہی البطلان ہے اور ان راویوں کے حال سے مجھے تعجب آتا ہے کیا بدیہیات کی
طرف بھی انہیں نظر نہیں تھی کیا وہ
ان کسوف الشمس لا یکون فی اللیل بل فی النھار واذا طلعت الشمس فاین اللیل یا ذوی الابصار۔ منہ
جانتے نہیں تھے کہ سورج گرہن رات کو نہیں ہوا کرتا بلکہ
دن کو ہوتا ہے اور جب سورج چڑھا تو پھر رات کہاں ہے آنکھوں والو۔