وطاعتہ غُنمٌ، ولا تکونوا من الأشقیاء ، ولا یفرُطْ وہمُکم إلی الألفاظ مِن غیر دواعٍ کاشفۃِ الخفاء ، بل فَتِّشوا الحقیقۃ واعرفوا الطرؔ یقۃ بحسن النیّات، ولا تلاعبوا کالصبیان بالأمور الدینیات وأیّ حرج علیکم أن تقبلوا ما بان کالبدیہات وتترکوا طرق الأکاذیب والتمویہات؟ وإننی ناصح أمین، ویرانی ربی عالم المخفیات، عارف الصادقین والکاذبین۔ عَلَی أَ نَّنی رَاضٍ بِأَنْ أُظْہِرَ الْہُدٰی وَأُلْحَقَ بِالدَّجَّالِ ظُلْمًا مِنَ الْعِدیٰ فالتأویل الصحیح والمعنی الحق الصریح أن المراد من خسوفِ أوّلِ لیلۃِ رمضان أن ینخسف القمر فی لیلۃ أولی من لیال ثلاثٍ یکمُل نور القمر فیہا وتعرف أیّام البِیض، ولا حاجۃ إلی البیان ومع ذلک إشارۃٌ إلی أن القمر إذا خسف فی اللیلۃ القمراء الأولی فینخسف فی أول وقتہا لا بعد مرور زمان پیروی کرو جن کی اشارت حکم ہے اور فرمانبرداری ان کی غنیمت ہے اور بدبختوں میں سے مت بنو اور چاہے کہ تمہارے وہم الفاظ کی طرف جھک نہ جائیں اور ایسے امور سے دور نہ جا پڑیں جو پوشیدہ امور کو کھولتے ہیں اور نیک نیت کے ساتھ راہ کو پہچان لو اور دینی امور سے بچوں کی طرح بازی مت کرو اور تم پر کون حرج وارد ہوتا ہے اگر تم اس امر کو قبول کر لو جو کھل گیا ہے اورجھوٹ اور تلبیس کی راہ کو چھوڑ دو اور مَیں تمہارے لئے ناصح امین ہوں اور میرا رب عالم المخفیات مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ صادقوں اور کاذبوں کو پہچانتا ہے۔ اور ان سب باتوں کے ساتھ مَیں راضی ہوں کہ ہدایت کو ظاہر کر وں اور دشمنوں کے ظلم سے دجال کے ساتھ ملایا جاؤں پس تاویل صحیح اور معنی حق صریح یہ ہیں کہ یہ فقرہ کہ خسوف اول رات رمضان میں ہو گا اس کے معنے یہ ہیں کہ ان تین راتوں میں سے جو چاندنی راتیں کہلاتی ہیں پہلی رات میں گرہن ہو گا اور ایام بیض کو تُو جانتا ہے حاجت بیان نہیں اور ساتھ اس کے اس بات کی طرف بھی اشارت ہے کہ جب چاند گرہن پہلی چاندنی رات میں ہو گا تو رات کے شروع ہوتے ہی ہو جائے گا نہ یہ کہ کچھ وقت گزر کر ہو جاء فی بعض الروایات من بعض قلیل الدرایات ان الشمس تنکسف فی اول لیلۃ رمضان ولا یخفٰی بعض کم فہم نے بعض روایات میں لکھ دیا ہے کہ سورج گرہن پہلی رات رمضان میں ہو گا حالانکہ