مِن فطنۃٍ خامدۃ ورویۃ ناضبۃ، فکیف یصدر مِن فارسِ ذلک المیدان، بل سیّد الفرسان؟ ما لکم لا تنظرون عزّۃَ اللّٰہ ورسولہ یا معشر
المجترئین؟ أبُخْلُکم أحبُّ إلیکم وأعزُّ لدیکم مِن خاتم النبیین؟ ألا تعرفون أن ہذا اللفظ فی ہذا المحل منکَرٌ مجہول لا یُعرَف استعمالہ فی کلمات أہل اللسان، وما أوردہ قطّ بلیغ ولا غیر بلیغ فی موارد البیان، وما
أخذہ عند اضطرارٍ غبیٌّ حاطبُ لیل، فکیف سلطانُ الفصاحۃ وسیّدُ خَیلٍ؟ وقد سُبِرَ بذلک غورُ عقلکم ومقدار نقلکم ومبلغ علمکم وفضلکم وحقیقۃ أدبکم وحدیقۃ حَدَبِکم، فإنکم عزَوتم إلی سید الأنبیاء ما لا تُعزیٰ إلی
جہول من الجہلاء ، تکاد السماوات تنشقّ من ہذا الاجتراء ، فاتقوا اللّٰہ ذا الکبریاء ، ولبُّوا دعوۃَ الحق تلبیۃَ أہل الاہتداء ، قد وقع واقع فلا تمیلوا إلی المِراء واتبِعوا قول النبی الذی إشارتہ حُکْمٌ
سے بھی صادر
نہیں ہو سکتی پس کیونکر اس سے صادر ہو جو فصاحت کے میدان کا سوار ہے
بلکہ سواروں کا سردار ہے تمہیں کیا ہوگیا جو تم اللہ اور رسول کی عزت کو نہیں دیکھتے اے دلیری کرنے والوں
کے گروہو کیا تمہارا بخل تمہیں بہت پیارا اور عزیز ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ پیار نہیں۔ کیا
تم نہیں پہچانتے کہ یہ لفظ اس محل میں خلاف محاورہ اور مجہول ہے اور اہل
زبان کے کلمات میں اس کا استعمال ثابت
نہیں اور کسی بلیغ غیر بلیغ کی عبارت میں یہ لفظ پایا نہیں گیا اور کسی غبی رطب یابس جمع
کرنے والے نے بھی اضطرار کے وقت اس لفظ کو نہیں
لکھا پس کس طرح اس کی زبان پر جاری ہوتاجو
سلطان الفصاحت اور سپہ سالار ہے اور اس لفظ سے تمہاری عقلیں آزمائی گئیں اور تمہاری نقل
کا اندازہ ہو گیا اور تمہارا ندازہ علم اور فضل
اور حقیقت ادب اور تمہاری اونچی زمین کے باغ کی حقیقت سب کھل
گئی کیونکہ تم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس چیز کو نسبت دی جو کسی جاہل سے جاہل کی طرف منسوب
نہیں کر سکتے قریب ہے جو اس شوخی اور جرأت کی شامت سے آسمان پھٹ جائیں سو تم خدائے بزرگ سے ڈرو اور حق کی دعوت قبول کرو
جیسا کہ ہدایت یافتہ لوگ قبول کرتے ہیں جو نشان
ظاہر ہونا تھا ہو چکا اب تم جھگڑے کی طرف مت جھکو اور اس نبی صلعم کی