فإن کنت فی شک فارجع إلی القاموس وتاج العروس والصحاح وکتاب ضخیم المسمّی لسان العرب، وجمیع کتب اللغۃ والأدب، وأشعار الشعراء وقصائد النبغاء ، ولک منّا ألف من الورق المروّج إنعامًا إن تُثبت خلاف ذلک کلامًا فلا تُحرِّفْ کلام سید الأنبیاء وإمام البلغاء والفصحاء ، واتق اللّٰہ یا مسکین، ولا تجترء فی شأن أفصَحِ العجم والعرب ومقبول الشرق والغرب أیفتی قلبُک ویرضٰی سِرْبُک بأن الأعرف الأفصح الذی أُعْطیَ لہ الجوامع والکلام الجامع، وجُعلتْ کلماتہ کلہا مملوّۃ من غُرَرِ الفصاحۃ ودُرَرِ البلاغۃ والنوادر العربیۃ، واللطائف الأدبیۃ، واللبوب اللغویۃ، والحقائق الحِکْمیۃ، ہو یُبتلَی بہذا العثار، ویترک جزل اللفظ ویختار رقیقًا سَقْطًا غلطًا غیر المختار، بل یخالف مُسلَّماتِ القوم ومقبولاتِ بُلغاء الدیار، ویصیر ضحکۃَ الضاحکین؟ وواللّٰہ ما یصدر ہذا الخطأ المبین والعثاؔ ر المہین اور اگر تجھے شک ہو تو قاموس اور تاج العروس اور صحاح اور ایک بڑی کتاب مسمی لسان العرب اور ایسا ہی تمام کتب لغت اور ادب اور شاعروں کے شعر اور قدماء کے قصیدے غور سے دیکھ اور ہم ہزار روپیہ انعام تجھ کو دیں گے اگر تو اس کے برخلاف ثابت کر سکے پس تُو سید الانبیاء کے کلام اور امام البلغاء کے کلموں کو ان کے اصل معنوں سے مت پھیر۔ اور اے مسکین خداتعالیٰ سے ڈر اور اس کامل کی شان میں دلیری مت کر جو عجم اور عرب سے زیادہ فصیح اور شرق و غرب میں مقبول ہے کیا تیرا دل اس بات پر فتویٰ دیتا ہے کیا تیرا دل اس بات پر راضی ہے کہ وہ اعرف اور افصح جس کو کلمات جامعہ عطا ہوئے اور کلام جامع اس کو ملا اور تمام کلمات اس کی فصاحت اور بلاغت کے موتیوں سے اور عربی کے نادر مضمونوں سے اور لطائف ادبیہ سے اور لغت کے مغزوں سے اور حقائق حکمیہ سے پُر تھے وہی اس لغزش میں مبتلا ہو اور صحیح اور فصیح لفظ چھوڑ کر ایک غیر محاورہ اور ردّی اور غلط لفظ استعمال کرے۔ بلکہ مسلّمات قوم کے مخالف بیان کرے اور بلغائے زمانہ کے مقبول لفظوں کو چھوڑ دے اور ہنسنے والوں کے لئے ہنسی کی جگہ ہو جائے۔ اور بخدا یہ خطاء مبین اور لغزش ذلیل کرنے والی کسی منجمد عقل اور سطحی رائے