وبین ما روی الدارقطنی إلا قلیلا عند المتفکرین فإن عبارۃ الدارقطنی تدل بدلالۃٍ صریحۃ وقرینۃ واضحۃ صحیحۃ، علٰی أن خسوف
القمر لا یکون فی أول لیلۃ رمضان أصلاً، ولا سبیل إلیہ جزمًا وقطعًا، فإن عبارتہ مقیّدۃ بلفظ القمر، ولا یُطلق اسم القمر علی ہذا النَّیِّر إلا بعد ثلاث لیال إلی آخر الشہر، وسُمّی قمرًا فی تلک الأیام لبیاضہ التّام،
وقبل الثلث ہلال ولیس فیہ مقال، وہذا أمر اتفق علیہ العرب کلُّہم وجُلُّہم إلی ہذا الزمان، وما خالفہ أحد من أہل اللسان، ولا ینکرہ إلّا مَن فُقدت بصیرتہ وماتت معرفتہ، ولا یخرج کلمۃٌ خلاف ذٰلک مِنؔ فم إلّا مِن
فمِ غَمْرٍ جاہل، أو ذی غِمْر متجاہل، ولا تسمعہا من أفواہ العاقلین
اور دارقطنی کے بیان میں سوچنے والوں کی نگاہ میں کچھ زیادہ فرق نہیں کیونکہ دارقطنی کی عبارت ایک
صریح بیان اور قرینہ
واضحہ صحیحہ کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چاند گرہن رمضان کی پہلی
تاریخ میں ہرگز نہیں ہو گا اور کوئی صورت نہیں کہ پہلی رات واقع ہو کیونکہ اس عبارت میں
قمر کا لفظ
موجود ہے اوراس نیرّ پر تین رات تک قمر کا لفظ بولا نہیں جاتا بلکہ تین رات کے بعد اخیر
مہینہ تک قمر بولا جاتا ہے۔ اور قمر اس واسطے نام رکھا گیا کہ وہ خوب سفید ہوتا ہے اور تین رات سے
پہلے
ضرور ہلال کہلاتا ہے اور اس میں کسی کو کلام نہیں اور یہ وہ امر ہے جس پر تمام اہل عرب کا
اس زمانہ تک اتفاق ہے اور کوئی اہل زبان میں سے اس کا مخالف نہیں اور نہ انکاری مگر
وہ شخص جس کی
بصیرت گم ہو گئی ہے اور معرفت مر گئی ہے اور ایسا کلمہ کسی مونہہ سے نہیں نکلے گا بجز اس کے جو غبی
جاہل ہو یا وہ جو کینہ ور اور دیدہ دانستہ اپنے تئیں جاہل بناتا
ہو اور عقلمندوں کے مونہہ سے تُو ایسا کلمہ نہیں سنے گا۔
قال صاحب تاج العروس یُسمّی القمر للیلتین من اول الشھر ھَلَالًا وفی الصحاح القمر بعد ثلاث الی اٰخر الشھر وقال بعضھم الھلال الی سبع وقال
ابو اسحاق والذی عندی وما علیہ الاکثر ان یُسمّٰی ھلالا ابن لیلتین فانہ فی الثالثۃ یتبین ضوء ہ۔ منہ