تلک الواقعۃ وأمّا نحن فما اطلعنا علٰی مسانید تلک الآثار، وطرق توثیق ہذہ الأخبار، إلا علی القدر المشترک الذی عرفناہ بتواتر الروایۃ وحسن الدرایۃ ومشاہدۃ الواقعۃ وقیام البرہان، وقد وافقَہ نصوصُ القرآن ولو بإجمال البیان ومع ذٰلک نریٰ ہذہ الآثار وقد ظہر فی أہل مکۃ غَلْیٌ یُصَدِّق ہذہ الأخبار وقرأتُ فی مکتوب أنہم ینتظرون الخسوف والکسوف بالانتظار الشدید، ویرقُبونہما رِقْبۃَ ہلالِ العید۔ وؔ ما بقی فیہا بیت إلّا وأہلہ ینامون ویستیقظون فی ہذہ الأذکار، فہذا تحریک من اللّٰہ الذی أراد إشاعۃ ہذہ الأنوار۔ وإنی أریٰ أن أہل مکۃ یدخلون أفواجًا فی حِزب اللّٰہ القادر المختار، وہذا من ربّ السّماء وعجیب فی أعین أہل الأرضین۔ وذکَر بعض المتأخّرین أنّ القمر ینخسف فی الثالث عشر من لیلۃ رمضان، والشمس فی السابع والعشرین، ولا منافاۃ بینہ اس واقعہ سے پہلے گذر چکا ہو مگر ہم نے ان روایتوں کے اسانید پر اطلاع نہیں پائی اور ان روایات کی توثیق کے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہوئے صرف قدر مشترک کے تحقق اور ثبوت کا ہمیں علم ہے اور قدر مشترک وہی ہے جس کو ہم نے تواتر روایت اور حسن درایت اور مشاہدہ واقعہ اور دلیل کے قائم ہونے سے دریافت کیا ہے اور نصوص قرآن کریم اس کے موافق ہے اگرچہ اجمالی بیان میں ہی ہو اور باوجود اس کے ہم ان نشانوں کو دیکھ رہے ہیں اور اہل مکہ میں ایک جوش پیدا ہوا ہے جو ان خبروں کی تصدیق کرتا ہے اور مَیں نے ایک خط میں پڑھا ہے کہ وہ خسوف اور کسوف کے سخت انتظار کر رہے ہیں اور اس کی ایسی انتظار کر رہے ہیں جیسا کہ ہلال عید کی انتظار ہوتی ہے اور مکہ میں کوئی ایسا گھر باقی نہیں رہا جس گھر کے باشندے سوتے جاگتے یہی ذکر نہ کرتے ہوں سو یہ اس خدا کی طرف سے تحریک ہے جس نے ان نوروں کا پھیلنا ارادہ فرمایا ہے اور مَیں دیکھتا ہوں کہ اہلِ مکہ خدائے قادر کے گروہ میں فوج در فوج داخل ہو جائیں گے اور یہ آسمان کے خدا کی طرف سے ہے اور زمینی لوگوں کی آنکھوں میں عجیب اور بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے کہ چاند گرہن رمضان کی تیرہ تاریخ میں رات کو ہو گا اور ۲۷ رمضان کوسورج گرہن ہو گا اور باوجود اس کے یہ ایک ایسا بیان ہے کہ اس میں