من ہذا الکلام عند الخواص والعوام، أن ما ذُکر من الآیۃ فی ہذہ الآیۃ فہو یتعلّق بالدنیا لا بالآخرۃ، وعَزْوُہ إلی القیامۃ بناءً علی
الروایۃ خطأٌ فی الدّرایۃ، بل ہو خبر من أخبار آخر الزمان وقربِ الساعۃ واقتراب الأوان کما لا یخفی علی المتدبّرین۔ ویؤیدہ ما جاء فی الدارقطنی عن محمدٍ الباقر بن زین العابدین قال إن لمہدینا آیتین لم تکونا
منذ خَلْق السماوات والأرض، ینکسف القمر لأوّلؔ لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النّصف منہ وأخرج مثلہ البیہقیُّ وغیرہ مِنَ المحدّثین۔ وقال صاحب الرسالۃ الحشریۃ شاہ رفیع الدّین الدہلوی الذی ہو
جلیل الشأن من علماء الملّۃ إن جماعۃ من أہل مَکّۃ یعرفون المہدی بالتفرس التام، وہو یطوف بین الرکن والمقام، فیبایعونہ وہو کارہٌ من بیعۃ الأنام وعلامۃ ہذہ القصۃ عند محدّثی الملّۃ أن القمر والشمس
ینکسفان فی رمضان خلا قبل
اس کلام سے خواص اور عوام پر ثابت ہو گیا کہ جو نشان خسوف کسوف قرآن شریف میں یعنی اس
آیت میں لکھا ہے وہ دنیا سے تعلق رکھتا ہے نہ آخرت سے اور
قیامت کی طرف اس کو منسوب کرنا اور کسی روایت کو پیش کرنا
خطا فی الدرایت ہے بلکہ وہ آخر زمانہ اور قرب قیامت کی خبروں میں سے ایک خبر ہے
جیسا کہ تدبر کرنے والوں پر پوشیدہ
نہیں۔ اور اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو دار قطنی نے امام محمد بن علی سے
روایت کی ہے کہا ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے یعنی کبھی کسی دوسرے کے لئے نہیں
ہوئے جب سے کہ زمین آسمان پیدا کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ رمضان کی رات کے اول میں ہی چاند کو گرہن لگنا شروع ہو گا اور اسی مہینہ کے نصف باقی میں سورج گرہن ہو گا اوراسی کی مانند بیہقی
اپنی کتاب میں ایک حدیث لایا ہے اور ایسا ہی بعض دوسرے محدث بھی اور صاحب رسالہ حشریہ شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی بھی جو علماء اسلام سے ایک جلیل الشان عالم ہے اس نے کہا ہے کہ ایک
جماعت اہل مکہ میں سے مہدی کو اپنی فراست سے پہچان لے گی اور وہ اس وقت رکن اور مقام میں طواف کرتا ہو گا تب اس حالت میں اس کی بیعت کریں گے اور وہ کراہت کرتا ہو گا کہ کوئی اس
سے بیعت کرے اور اس قصہ کی علامت جیسا کہ محدثین ملت نے روایت کی ہے یہ ہے کہ چاند اور سورج کو اس رمضان میں گرہن لگے گا جو