بالیقین لا بالشک، عِللہ وأسبابہ، وتفہمون مواقعہ وأبوابہ؟ وکیف یظہر أمرٌ لازم للنظام بعد فَکِّ النظام والفساد التام؟ فإنکم تعلمون أن
الخسوف والکسوف ینشآن من أشکال نظامیۃٍ وأوضاعٍ مقرّرۃ منتظمۃ، علی أوقات معیّنۃ وأیّام معروفۃ مبیّنۃ، فکیف یُعزَی وقوعہا إلی ساعۃٍ لاؔ أنسابَ فیہا ولا أسباب، ولا نظامَ ولا إحکام؟ فانظروا إن کنتم
ناظرین ثمّ من لوازم الکسوف والخسوف أن یرجع القمر والشمس إلی وضعہما المعروف، ویعودا إلٰی سیرتہما الأُولٰی، وفی ہویّتہما داخلٌ ہذا المعنٰی،وأمّا تکویر الشمس والقمر فی یوم القیامۃ فہی حقیقۃ أخری،
ولا یُرَدُّ فیہما نورُہما إلٰی حالۃ أولی، بل لا یکون وقوعہ إلا بعد فکّ النظام والفساد التام وہدم ہذا المقام، وما سمّاہ اللّٰہ خسوفا وکسوفا بل سماہ تکویرا أو کشط الأجرام، کما أنتم تقرأون فی کلام اللّٰہ العلّام
فثبت
اسباب تمہیں معلوم ہیں اور اس کے ظہور کے وقت اور ظہور کے دروازے تم نے سمجھے ہوئے ہیں
اور وہ امر جو نظام عالم کا ایک لازمہ ذاتی ہے کیونکر بعد فک نظام اور فک تام کے ظہور
پذیر ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ
خسوف اور کسوف اشکال نظامیہ سے پیدا ہوتے ہیں اور نیز ان کا پیدا ہونا اوضاع مقررہ
منتظمہ پر موقوف ہے جو ان اوقات معینہ اور مشہور دنوں پر موقوف ہے جو
فن ہیئت میں بیان کئے گئے ہیں پس کیونکر
اُن کو اس گھڑی کی طرف منسوب کیا جائے جس میں نہ نسب ہیں نہ اسباب نہ نظام نہ ترتیب نہ محکم کرنا سو تم سوچو
اگر کچھ سوچ سکتے ہو پھر
لوازم خسوف اور کسوف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج اور
چاند اپنی اصلی وضع کی طرف رجوع کریں اور اپنی پہلی سیرت کی طرف عود کر آویں اور خسوف کسوف کی تعریف میں
یہ بات
داخل ہے کہ اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کریں مگر تکویر شمس و قمر جو قیامت میں ہو گی وہ اور حقیقت ہے
اور تکویر کے وقت نور شمس و قمر اپنی پہلی حالت کی طرف نہیں آئے گا بلکہ
تکویر کا وقوع فک نظام
اور فساد تام اور انہدام کلی کے وقت ہو گا اور اس کا نام خداتعالیٰ نے خسوف کسوف نہیں رکھا بلکہ
اس کا نام تکویر اور کشط رکھا ہے جیسا کہ تم خداتعالیٰ کے کلام میں
پڑھتے ہو۔ پس