وتُبشَّرون مِن سیّد الرسل نورِ اللّٰہ مُزیلِ الظلام أعنی خسوف النَّیِّریْنِ فی شہر رمضان الذی أُنزل فیہ القرآن، قد ظہر فی بلادنا بفضل اللّٰہ المنّان، وقد انخسف القمر والشمس وظہرت الآیتان، فاؔ شکروا اللّٰہ وخرّوا لہ ساجدین۔ وإنّکم قد عرفتم أن اللّٰہ تعالی قد أخبر عن ہذا النبأ العظیم فی کتابہ الکریم، وقال للتعلیم والتفہیم 33333333 ۱؂ فتَفکَّروا فی ہذہ الآیۃ بقلب أسلم وأطہر، فإنہ من آثار القیامۃ لا من أخبار القیامۃ کما ہو أجلی وأظہر عند العاقلین۔ فإن القیامۃ عبارۃ عن فساد نظام ہذا العالم الأصغر وخلق العالم الأکبر، فکیف یقع فی حالۃ الفَکِّ الخسوف الذی تعرفون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سید الرسل اور اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے تمہیں بشارت ملی تھی یعنی رمضان شریف میں آفتاب اور چاند گرہن ہونا وہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا وہ نشان ہمارے ملک میں بفضل اللہ تعالیٰ ظاہر ہو گیا اور چاند اور سورج کا گرہن ہوا اور دو نشان ظاہر ہوئے پس خداتعالیٰ کا شکر کرو اور اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گرو۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ خداتعالیٰ نے اس واقعہ عظیمہ کے بارے میں اپنی کتاب کریم میں خبر دی ہے اور سمجھانے اور جتلانے کے لئے فرمایا ہے پس جس وقت آنکھیں پتھرا جائیں گی اور چاند گرہن ہو گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کئے جائیں گے یعنی سورج کو بھی گرہن لگے گا تب اس روز انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے۔ سو اس نشان میں ایک سلیم اور پاک دل کے ساتھ فکر کرو کیونکہ یہ خبر قیامت کے آثار میں سے ہے قیامت کے واقعات میں سے نہیں ہو سکتی جیسا کہ عقلمندوں کے نزدیک نہایت صاف اور روشن ہے۔ وجہ یہ کہ قیامت اس حال سے مراد ہے جبکہ اس عالم اصغر کا نظام توڑ دیا جائے اور ایک عالم اکبر پیدا کیا جائے پس کیونکر فکِ نظام کی حالت میں وہ خسوف کسوف ہو سکتا ہے جس کے علل اور