القمرُ ساریۃٌ ومثلُ عشیّۃٍ والشمس غادٍ مُدجِنٌ قَطْرَ النَّدَا رمضان کا چاند اس بادل کی طرح ہے جو سر شام آتا ہے اور نیز رات کے بادل کی طرح اور سورج اس بادل کی طرح ہے جو صبح آتا ہے اور محیط ہوتا ہے جو بخشش کا بادل ہے ہذا من اللّٰہ المہیمن آیۃٌ لیُبِیْد مَن تَرَک الہُدیٰ مُتعمّدا یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہے تاکہ اس کو ہلاک کرے جو عمداً ہدایت کو چھوڑتا ہے فاسعَوا زُرَافَاتٍ وَوُحْدَانًا لہٗ مُتَنَدِّمین وبَادِرِیْنَ إِلَی الہدیٰ پس ٹولے ٹولے اور اکیلے اکیلے اس کی طرف دوڑو اور چاہیئے کہ تمہارا دوڑنا شرمندگی کی حالت میں ہوا ور ہدایت کی طرف جلدی قدم اٹھے ظہرؔ ت خطایاکم وحصحصَ صدقُنا فابکوا کثَکْلیٰ فی الزَّوایا سُجَّدا تمہاری خطا ظاہر ہو گئی اور ہمارا سچ کھل گیا پس اس عورت کی طرح جس کا لڑکا مر جاتا ہے گوشوں میں سجدہ کرتے ہوئے آہ ونالہ کرو صارت دیار الہند أرضَ ظہورہا لیُسَکِّتَ الرحْمٰن غُوْلًا مُفْنِدا ہند کی زمین اس نشان کے ظاہر ہونے کا مقام قرار پائے تاکہ خداتعالیٰ دروغ گو کو ملزم کرے فأَذِبَّۃُ الأَوْہَامِ قُصَّ جناحُہا رُحمًا علٰی قوم أطاعُوا أحمدا پس وہموں کی مکھیوں کے پر کاٹ دیئے اس قوم پر رحم کر کے جنہوں نے نبی صلعم کی فرمانبرداری اختیار کی فتَجافَ عن أیّامِ فَیجٍ أعوجٍ حِججٌ خلَوْنَ تغافُلًا وتمرُّدا پس ٹیڑھے گروہ کے زمانہ سے الگ ہو وہ برس ایسے ہیں جو تغافل اور سرکشی میں گذر گئے کانت شَرِیْعَتُنَا کَزَرْعٍٍ مُعْجِبٍ فیہا تعرّتْ مثلَ أَزْعَرَ أَرْبَدا ہماری شریعت ایک تعجب انگیز کھیتی تھی مگر ان برسوں میں ایسی برہنگی اس کی ظاہر ہوئی جیسے وہ جانور جس پر بال نہ ہوں اور خاکی رنگ ہو اَلعَیْنُ بَاکیۃ عَلٰی أطلالِہَا یا ربِّ فاعمُرْ خَرْبَہا مُتَوَحِّدَا آنکھ اس کی آثار عمارت پر رو رہی ہے اے میرے رب اب تُو ہی اس کے ویرانہ کو پھر آباد کر وأمّا تفصیل الکلام فی ہٰذَا المَقَام، فاعْلَمُوْا یا أَہْلَ الإِسْلام وأتباع خیر الأنام، أن الآیۃ الّتی کنتم تُوعَدون فی کتاب اللّٰہ العلّام اب ہم اس مقام میں اس کلام کی کچھ تفسیر کرنا چاہتے ہیں پس اے اہلِ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والو تمہیں معلوم ہو کہ وہ نشان جس کا قرآن کریم میں تم وعدہ دیے گئے تھے