لکنْ مُؤیِّدُنا الَّذِی ہو ناظرٌ ما شاء أن یُّؤذِی العَبِیطُ مُؤیَّدا مگر وہ مؤید جو دیکھ رہا ہے اس نے نہ چاہا جو ایک دروغ گو اس کے تائید یافتہ کو دکھ دیوے نصرٌ من اللّٰہِ القریب بِفَضْلِہٖ إن المُہَیْمِنَ لا یُؤخِّر مَوْعِدا یہ خداتعالیٰ کی طرف سے مدد ہے جو قریب ہے خداتعالیٰ اپنے وعدہ کو پس انداز نہیں کرتا قُضِیؔ النّزاعُ وشَاہِدَان تظاہرَا لِیُبَکِّتَ الْمَوْلٰی أَلَدَّا أسْمَدَا فیصلہ ہو گیا اور دو گواہوں نے گواہی دی جو ایک دوسرے کو قوت دیتے ہیں تا خداتعالیٰ ایک بڑے جھگڑالو اور متکبر کو ملزم کرے قمرٌ کمثل حمامَۃٍ بِدَلَالِہِ شمس بتبشیرٍ تُشابِہُ ہُدْہُدَا چاند اپنے ناز میں کبوتر کی طرح ہے آفتاب بشارت دینے میں ہُد ہُد سے مشابہ ہے قِطْعَاتُہَا تَہْدِی الْقُلُوْب کأنہا زُبُرٌ تجدّ نقوشَ شمسٍ مُقْتَدَا اس کے ٹکڑے دلوں کو ہدایت کرتے ہیں گویا وہ کتابیں ہیں جو ہمارے آفتاب یعنی رسول اللہ صلعم کے نقشوں کو تازہ کرتے ہیں أَوَ مِثْلُ وَاشِمَۃٍ أُسِفَّ نَؤُورُہا خدًّا کمخدُودٍ ووَجْہًا أَغْیَدَا یا اس عورت نگار بند کی طرح جس کا نقش کرنے کا دھواں اس رخسار پر بُرکا گیا جو بوجہ نشان نقش داغ دار رخسار کی طرح ہو اور نرم منہ پر بُرکا گیا یا أیہا المتجرّمون بعجلۃٍ حَسَدًا تَجَرَّمَ غَیْمُکم وتقدَّدا اے وے لوگو جو شتابکاری اور حسد سے باطل الزام لگاتے ہو تمہارا بادل نابود ہو گیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا کنّا نَریٰ أَسَفًا تأجُّلَ بَہْمِکم فالیَوْم صَفُّ المفسدین تبدَّدا ہم افسوس سے تمہارے بزغالوں کی جماعتوں کو دیکھا کرتے تھے پس آج مفسدوں کی صفیں متفرق ہو گئیں وَقَدِ اسْتَبَاح الغُولُ جَوْہرَ عقلہ حَتَّی انْثَنٰی مِنْ أَمْرِہٖ مُتَرَدَّدَا اور ایک دیو نے اپنے جوہر عقل کا استیصال کر لیا یہاں تک کہ وہ اپنے مطلوب کے بارے میں تردد میں پڑ گیا إنّ السّعید یجیءُ مُلتَقِطَ النُّہٰی ولقِیْطۃُ الشَّیْطَانِِ یزری مُلْحِدَا سعید آدمی عقل حاصل کرنے کے لئے آتا ہے اور شیطان کا پروردہ ملحدانہ طور پر عیب جوئی کرتا رہتا ہے إنَّا سَلَخْنَا شَہْرَ رَمَضَانَ الَّذِیْ فیہِ الخُسُوفُ مع الکُسُوْفِ تفرَّدَا ہم اس رمضان کے اخیر تک پہنچ گئے جس کا خسوف اور کسوف بے مثل ہے