یقِی خاطبُ الدنیا الدنیّۃ مالَہا
ومن أزمعَ العقبی فللّہِ یقتنی
دنیا نابکار کا طالب دنیا کے مال کو نگاہ رکھتا ہے
اور جو
عاقبت کا قصد کرے وہ عاقبت کے لئے ذخیرہ اکٹھا کرتا ہے
وؔ قد ظہر الحقُّ الصریح ونورُہٗ
فلا تتبعوا جہلًا عمایاتِ ضَیْزَنی
حق صریح اور اس کا نور ظاہر ہو چکا
سو تم اپنی جہالت سے
دشمن کی باطل باتوں کی پیروی مت کرو
أیضًا فی الخسوف والکسوف لدعوۃ الضالین والأمر بالمعروف
ظہَر الخسوف وفیہ نورٌ والہدی
خیرٌ لنا ولخیرنا أمرٌ بَدَا
خسوف ظاہر ہو گیا اور اس میں
نور اور ہدایت ہے
یہ ہمارے لئے بہتر ہے اور ہماری بھلائی کے لئے ایک امر ظاہر ہوا ہے
ہبّتْ ریاحُ النّصر من محبوبنا
مشمولۃٌ قد برّدَتْ حرَّ العِدَا
مدد کی ہوائیں ہمارے دوست کی طرف سے
چلیں
یہ شمالی ہوائیں ہیں جنہوں نے دشمنوں کی گرمی کو ٹھنڈا کر دیا
فی لیلۃٍ قُدَّتْ ثیابُ غَمامہا
برقُ الرَّواعِدِ کان فیہا مُرْجِدا
اس رات میں خسوف ہوا جس کے بادل کے کپڑے پھاڑے
گئے
اور بادلوں کی چمک جو ان میں تھی وہ دلوں کو ہلا رہی تھی
قمرٌ مُعینُ الصَّادِقینَ مبارکٌ
حَکمٌ مُہِینُ الکَاذِبِیْنَ تہدُّدَا
ایک ایسا چاند ہے جو سچوں کی مدد کرتا ہے
ہم میں اور ہمارے دشمنوں
میں ثالث ہے جو جھوٹوں کو دھمکی دے کر رسوا کر رہا ہے
ردِف الکسوفُ خسوفَہ من ربّنا
لیُہِینَ فتّانًا شریرًا مُفْسِدا
خسوف کے بعد ایک ہی مہینہ میں کسوف آیا
تاکہ خداتعالیٰ مفسد شریر فتنہ
گر کو رسوا کرے
شمس الضحیٰ برزتْ برعبِ مُبارِزٍ
أفتلک أَمْ سیفٌ مبیدٌ جُرِّدَا
سورج ایک رعب ناک شکل میں سپاہیوں کی طرح ظاہر ہوا
کیا یہ سورج ہے یا ایک تلوار ہے جو کھینچی گئی
سقطتْ علی رأس المخالف صخرۃٌ
کالسَّمْہَرِیَّۃِ شَجَّہٗ أو کَالمُدیٰ
مخالف کے سر پر ایک پتھر پڑا
جس نے نیزے کی طرح یا کاردوں کی طرح اس کے سر کو توڑ دیا
إنّا صفحنا عن تفاحُشِ
قولِہٖ
قلنا جَہُوْلٌ قد ہَذَی متجلّدا
ہم نے اس کی بدگوئی سے اعراض کیا
ہم نے کہا کہ ایک بے وقوف ہے جو شتاب کاری سے بک رہا ہے