وہذؔ ا عطاءٌ مِّن قدیرٍ مُکوِّنٍ
وفضلٌ من اللّٰہِ النّصیر المہوِّنِ
اور یہ اس قادر کی عطا ہے جو نیست سے ہست کرنے والا
ہے
اور یہ اس اللہ کا فضل ہے جو مددگار اور مشکلات کو آسان کرنے والا ہے
ففاضت دموع العین منّی تأثُّرًا
إذا ما رأیتُ حنانَ ربٍّ محسنِ
سو متأثر ہونے کی وجہ سے میرے آنسو جاری ہو
گئے
جبکہ مَیں نے خدائے محسن کی یہ بخشائش دیکھی
قد انکسفت شمسُ الضُّحٰی لضیائنا
لِیظہَرَ ضوءُ ذُکائنا عند مُمعِنِ
سورج ہماری روشنی کے لئے کسوف پذیر ہوا
تاکہ ہمارے آفتاب کی
روشنی ان لوگوں پر ظاہر ہو
تری أَنوارَ الدِّین فی ظلماتہا
ولُمّاتِہا کأنہا أرضُ مخزن
تُو اس کی تاریکی میں دین کے نور دیکھتا ہے
اور ایسا ہی اس کے اس حادثہ میں جو اس پر پڑ رہا ہے اور
وہ ایسا ویرانہ سا ہو گیا ہے جیسا کہ وہ ویرانہ زمین ہوتی ہے جس کے نیچے خزانہ ہو
ولیس کُسوفًا ما تری مثلَ عَندَمٍ
بل احمرَّ وجہُ الشمس غضبًا علی الدنی
اور یہ کسوف نہیں جو دم الاخوین
کی طرح تجھے نظر آتا ہے
بلکہ ایک کمینہ پر غصہ کرنے کی و جہ سے سورج کا چہرہ سرخ ہو گیا
وحُمْرتُہا غیظٌ تریٰ فی خدِّہَا
علٰی جہلات القوم فانظُرْ وامْعِنِ
اور اس کی سرخی ایک
غصہ ہے جو اس کے رخساروں میں نمودار ہے
اور یہ غصہ قوم کی بیہودگیوں پر ہے پس دیکھ اور غور سے دیکھ
ظَلَامٌ مُنیرٌ یملأُ العَْینَ قرّۃً
ویسقی عطاشَ الحق کأس التّیقنِ
ایک روشن کرنے
والا اندھیرا ہے جو آنکھ کو ٹھنڈک کے ساتھ پُر کر دیتا ہے
اور حق کے طالبوں کو یقین کے پیالے پلاتا ہے
ولو قبلَ رؤیتہٖ أنابَ مخالفی
لَہُدِیَ إلی الأسرار قبل التَّفَکُّنِ
اور اگر اس سے پہلے
میرا مخالف حق کی طرف رجوع کرتا
تو شرمندہ ہونے سے پہلے حقانی بھیدوں کو پا لیتا
ولکنّہ عادیٰ وقفَّل قلبہ
فقُلْنا اہْلَکَنْ فی جہلک المتمکّنِ
مگر اس نے حق سے مخالفت کی اور اپنے دل کو
مقفل کر دیا
سو ہم نے کہا کہ اپنے مستحکم جہل میں مر جا
رأیت ذوی الآراء لا یُنکروننی
وذی لَوثۃٍ یعوی لوجعِ التَّسکّنِ
مَیں نے اہل الرائے لوگوں کو دیکھا کہ وہ تو میرا انکار نہیں
کرتے
اور ایک غبی آدمی جو عقل کی دولت سے محروم ہے اسی ناداری کے درد سے بھیڑئیے کی طرح آواز کر رہا ہے
فإن کنتَ تبغی اللّٰہ فاطلُبْ رضاء ہ
وإن کنت تبغی النَّحرَ فی الحجّ
فَامْتَنِ
سو اگر تُو خداتعالیٰ کی رضا چاہتا ہے تو اس کی رضا ڈھونڈ
اور اگر تُو حج میں قربانی کرنا چاہتا ہے تو منیٰ میں جا