الآیتان المتظاہرتان، وانخسف النیِّرانِ فی رمضان، وجاء الماء لإطفاء النیران، فطوبٰی لکم یا معشر المسلمین، وبُشریٰ لکم یا طوائف
المؤمنین
اور دو ایسے نشان ظاہر ہو گئے جو ایک دوسرے کو قوت دیتے ہیں اور سورج اور چاند کا خسوف کسوف رمضان میں واقع ہو گیا
اور آگ کے بجھانے کے لئے پانی آ گیا سو اے مسلمانوں
تمہیں مبارک ہو اور اے مومنوں کے ٹولو تمہیں بشارت ہو۔
القصیدۃ فی الخسوف والکسوف واقتضبتُہا لقتل
خسوف کسوف کے بارے میں ایک قصیدہ جس کو مَیں نے بھیڑئیے کے قتل کرنے
السِّرْحان وتنجیۃ الخَروفِ
اور برّہ کے بچانے کے لئے بے تامل کہہ دیا ہے۔
غَسا النَّیِّرانِ ہدایۃً لِلْکَودَنِ
یقولانِ لا تترُکْ ہُدًی وتَدَیَّنِ
سورج اور چاند کم عقل آدمی کی رہنمائی کے لئے تاریک ہو
گئے
اور بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ ہدایت کو مت چھوڑ اور راستبازی اختیار کر
وإنّہما کالشاہدینِ تظاہَرَا
ہما العدل قد قاما فہل من مؤمنِ
اور وہ دونوں گواہوں کی طرح ایک دوسرے کو قوت
دیتے ہیں
وہی گواہ صادق ہیں جو شہادت دینے کے لئے کھڑے ہو گئے پس کیا کوئی ایماندار ہے جو توجہ کرے
وقد فرّ قومی نخوۃً وتعصّبًا
وأین المفرّ من الدلیل البیّنِ
اور میری قوم نے
محض نخوت اور تعصب سے گریز کی
مگر روشن دلیل سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے
وترکوا حدیث المصطفٰی خیرَ الوریٰ
فسادًا وکبرًا مع دَعاوِی التسنّنِ
اور انہوں نے پیغمبر خدا صلی اللہ
علیہ وسلم کی حدیث کو چھوڑ دیا
اور یہ چھوڑنا محض فساد اور تکبر سے تھا باوجود اس کے جو اہل سنت ہونے کا دعویٰ کرتے تھے
وما بقِی لِلنُّوکیٰ مفرٌّ بَعْدہ
وإنّی أراہم کالأسیر المقرَّنِ
اور اس کے بعد نادانوں کے لئے کوئی گریزگاہ باقی نہ رہا
مَیں ان کو اس قیدی کی طرح دیکھتا ہوں جو پا بزنجیر ہو
وقد نبذوا التقوی وراء ظہورہم
وأَلْہَتْہُمُ الدنیا عن المولی الغَنِیْ
اور انہوں
نے تقویٰ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا
اور دنیا نے ان کو خداتعالیٰ سے غافل کر دیا
وواللّٰہِ إن الیوم یوم مبارک
یذکِّرنا أیامَ نصرِ المُہیمنِ
اور بخدا یہ دن مبارک دن ہے
جو ہمیں خداتعالیٰ
کی مدد کا زمانہ یاد دلاتا ہے