فی یوم ! کلا، بلؔ إنہم من المسؤولین۔
و رأیت أن الفتن لیست محدودۃ إلٰی أنفسہم، بل العامۃ قد اجتمعوا علی صفیرہم،
واغترّوا بتقاریرہم الیابسۃ الملمَّعۃ، فاشتعل غیظ العامۃ علینا، وتبوّغَ دمہم بتہییج المفترین، وحسبوہم عالِمین متدیّنین صادقین۔ فلمّا زُلزلت أرض الہند کلہا، وأحسستُ من العلماء البخل والحسد، وضعتُ فی
نفسی أن أُعرض عنہم فارًّا إلی مکۃ، وأن أتوجّہ إلی صُلحاء العرب ونخباء أُمِّ القُری الذین خُلقوا من طینۃ الحریۃ، وتفوّقوا دَرَّ الأہلیۃ، فألقی اللّٰہ فی قلبی عند مسّ ہذہ الحاجۃ أن أؤلّف کتبا فی لسان عربی
مبین۔ فألّفتُ بفضل اللّٰہ ورحمتہ وتوفیقہ کتابا اسمہ التبلیغ، ثم کتابا آخر اسمہ التحفۃ، ثم کتابا آخر اسمہ کرامات الصادقین
نہیں کرے گا ہرگز نہیں بلکہ ان سے باز پرس ہوگی۔
اور میں نے دیکھا کہ
فتنے انہیں کی ذات تک محدود نہیں رہے بلکہ عوام الناس اُن کی سیٹی پر
جمع ہو گئے ہیں اور ان کی خشک اور ملمع باتوں پر فریفتہ ہو گئے۔
سو عام لوگوں کا غصہ ہم پر بھڑکا اور ان کا خون
بباعث افترا پردازوں کی انگیخت کے جوش میں آیا۔
اور ان کو سمجھ لیا کہ یہ لوگ صاحب علم اور دیانتدار اور سچے ہیں۔ پس جب ہند کی زمین میں ایسا زلزلہ آیا کہ
ساری زمین ہل گئی اور علماء
میں مَیں نے بخل اور حسد پایا تو میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا کہ ان لوگوں
سے اعراض کروں اور مکہ کی طرف بھاگوں اور صلحاء عرب اور مکہ کے برگزیدوں کی طرف توجہ کروں
کیونکہ وہ
آزادی کی مٹی سے پیدا کئے گئے اور اہلیت کے دودھ سے پرورش پائے ہیں۔
سو خدا تعالیٰ نے اس حاجت کے پیدا ہونے کے وقت میرے دل میں یہ القا کیا کہ میں کھلی کھلی عربی
میں چند کتابیں
تالیف کروں۔ سو میں نے خدا کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی توفیق سے ایک کتاب تالیف کی
جس کا نام تبلیغ ہے پھر دوسری کتاب تالیف کی جس کا نام تحفہ ہے پھر تیسری کتاب تالیف کی
جس کا نام کرامات الصادقین ہے