فما استیقظوا، وخضعنا أطوارًا فما خضعوا، فقلنا اخسأوا خسءًا: إن اللّٰہ غنی عنکم ولا یعبأ بکم، وسیأتی بقوم ینصرون دینہ ویحبّون الصادقین۔ فحاصل الکلام: إنی إذا رأیت ہذہ الأمراض والسموم ساریۃً فی عروق أکثر علماء الہند، ورأیتہم فی غُنْیۃ من کتاب اللّٰہ ورسولہ، بل رأیتہم ضاربین بعود ومزمار آخر، وکلُّ أحد منہم زمّارٌ بما عندہ من الخیالات الباطلۃ، وارتضی بمعازفہ النفسانیۃ متمسّکا بہا، ولا یتوبون ولا یتندّمون، بل أراہم یصرّون ویفخرون علی جہلا تہم ویصفّقون بالأیادی فرحین، ویکفّرون المؤمنین مجترئین کأنہم فی مأمن من مؤاخذۃ اللّٰہ ومحاسباتہ، وکأن اللّٰہ لا یسأل عنہم ولا یقول لِم قفوتم ما لم یکن لکم بہ علم، ولا یُنبّۂم بما فی صدورہم کے لئے جگایا پر وہ نہ اٹھے ہم کئی مرتبہ جھکے پر وہ نہ جھکے آخر ہم نے کہا دور ہو جاؤ دفع ہو جاؤ خدا کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں اور وہ ایسی قوم لے آئے گا جو اس کے دین کے مددگار ہوں گے اور صادقوں سے پیار کریں گے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ جب میں نے یہ بیماریاں اور یہ زہریں اس ملک کے اکثر مولویوں میں دیکھیں جو ان کی رگوں میں رچ چکی تھیں اور میں نے ان کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے لا پرواہ پایا بلکہ میں نے دیکھا کہ وہ تو اور ہی بانسلی بجا رہے ہیں اور ہر ایک بانسلی بجانے والا اپنے خیالات باطلہ کے طرز پر بجانے میں مشغول ہے اور ہر ایک شخص اپنے نفسانی آلات سرود لئے بیٹھا ہے اور ان سے خوش ہے نہ توبہ کرتے اور نہ پچھتاتے ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات باطلہ پر اصرار کرتے اور ناز کرتے ہیں اور خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور بڑی دلیری سے مومنوں کو کافر ٹھہرا رہے ہیں۔ گویا ان کو خدا تعالیٰ کے مؤاخذہ سے بکلی امن ہے اور اس کے محاسبہ سے بے غم ہیں گویا خدا ان سے سوال نہیں کرے گا اور نہیں کہے گا کہ تم کیوں ایسی بات کے پیچھے پڑے جس کا تمہیں قطعی اور یقینی علم نہیں تھا اور ان کے دلی ارادے ان پر ظاہر