قد أضرّت الإسلام إضرارًا عظیمًا، والناس باستماعہا یخرجون من دین اللّٰہ أفواجا ویلتحقون بالنصارٰی بما سمعوا من صفات المسیح وعصمتہ الخاصۃ وخلودہ إلی ہذا الوقت، وقدرتہ الکاملۃ فی الخَلق والإحیاء علی قدرٍ ما وُجِدَ مثلہ فی أحد من النبیین۔ ویشاہدون (ہذہ العلماء) ہذہ المفاسد کلہا ثم لا یتنبہون، ولا یرتجف فؤادہم، ولا تذوب أکبادہم، ولا یأخذہم رحم ورقّۃ علی أمّۃ النبی۔ ونبکی علیہم ونصرخ صرخۃ متموّجۃ، فلا یسمع أحد بکاء نا ولا صراخنا، بل یُکفّروننا مغتاظین۔ وإنما مثلنا فی ہذہ الأیام أیامِ غربۃ الإسلام کمثل خابط فی واد فی اللیلۃ المظلمۃ،ؔ أو صارخ فی اللظی المضرمۃ، فلا نجد مُغیثًا من قومنا إلا الواحد الذی ہو رب العالمین۔ وإنا یئسنا منہم غایۃ الیأس کأنّا وضعناہم فی قبورہم۔ قلنا مرارًا فما سمعوا، وأیقظنا إنذارًا اسلام کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں اور لوگ ان کی باتوں کو سن کر دین اسلام سے نکلتے جاتے ہیں اور نصاریٰ میں داخل ہوتے جاتے ہیں کیونکہ وہ مسیح کی عصمت خاصہ اور اس کا اب تک زندہ رہنا اور اس کی قدرت کاملہ خالقیت میں اور زندہ کرنے میں اس مبالغہ سے سنتے ہیں جس کی نظیر اور نبیوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور یہ مولوی لوگ ان تمام فسادوں کو دیکھ رہے ہیں پھر خبردار نہیں ہوتے اور ان کے دل نہیں کانپتے اور ان کے جگر نہیں پگھلتے اور ان کو امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ بھی رحم نہیں آتا ہم ان پر گریہ کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں سو کوئی ہمارے گریہ کو نہیں سنتا اور نہ ہماری فریاد کو بلکہ وہ غصہ میں آکر کافر کافر کہتے ہیں۔ اور ہماری مثل ان دنوں میں جو غرب اسلام کے دن ہیں اس مسافر کی طرح ہے جو جنگل میں اور اندھیری رات میں بہکتا پھرتا ہے یا اس کی مثل جو بھڑکتی ہوئی آگ میں فریاد کر رہا ہے سو ہم کوئی فریاد رس اپنی قوم میں نہیں پاتے مگر وہی ایک جو رب العالمین ہے اور ہم ان لوگوں سے نہایت درجہ ناامید ہوگئے گویا ہم نے ان کو ان کی قبروں میں دفن کر دیا ہم نے بہت کہا مگر انہوں نے نہیں سنا ہم نے خوف دلانے