فلا تعجَلْ ولا تُعِنْ فتنَ المفسدین۔ ہذا ہو القول الحق، فاقبَلوا کلمۃ الحق ولو خرج من فم طفل، فإن السعادۃ کلہا فی قبول الحق، فطوبٰی للذین یقبلون الحق خاضعین۔ والذین عادَونا فلا یقبلون الحق مع أنہ لیس فیہ دقّۃ وإغماض، بل ہم یعلمون فی قلوبہم أنہ الحق المبین۔ وإذا قیل لہم آمِنوا بالحق الذی تبیّنَ، وبالمعانی التی حصحصت صحتہا، قالوا أنؤمن بأمورؔ تخالف أقوال أسلافنا؟ وإنْ کان أسلافہم من الخاطئین المخطئین؟ ونری أنہم قد خُنقوا، وأن ثلوج البخل قد تساقطت علی أرض قلوبہم بشدّتہا ومُداکاتہا، فخنقتْ شَطْأَہا، وردِفہا حَصَی التعصب، فسُحقت الاستعدادات تحتہا کالحدید تحت مطرقۃ القَین، أو القطنِ تحت مطرقۃ الطارقین۔ والعجب منہم ومن عقلہم أنہم یرون بأعینہم أن کلماتہم الباطلۃ المضلّۃ پس تم مفسدوں کے فتنوں کے مددگار مت بنو۔ یہی سچی بات ہے سو سچ کو قبول کرو اور اگرچہ ایک بچہ کے منہ سے نکلا ہو کیونکہ تمام سعادت حق کے قبول کرنے میں ہے سو مبارک وہ لوگ جو حق کے قبول کرنے کے لئے جھک جاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو ہم سے عداوت رکھتے ہیں وہ حق کو قبول نہیں کرتے باوجود یکہ کچھ اس میں دقت نہیں بلکہ وہ اپنے دلوں میں خود جانتے ہیں کہ وہ صریح اور صاف حق ہے۔ اور جب ان کو کہا جائے کہ حق تو ُ کھل گیا اب تم اس کو قبول کرو اور ان معانی پر ایمان لاؤ جن کا صحیح ہونا ثابت ہوگیا تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسی باتوں کو مان لیں جو ہمارے متقدمین کے اقوال کے مخالف ہیں اور اگرچہ ان کے متقدمین نے اپنی راؤں میں خطا ہی کی ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ دبائے گئے ہیں اور بخل کی برفیں کثرت کے ساتھ اور شدت کے ساتھ ان کے دلوں پر گریں اور ان کے سبزہ کو دبا لیا اور پیچھے سے تعصب کے سنگریزے ان پر پڑے سو ان کی استعدادیں اس کے نیچے ایسی پیسی گئیں جیسا کہ لوہا لوہار کے ہتھوڑے کے نیچے پس جاتا ہے۔ یا روئی دُھنئے کے دُھنکے کے نیچے دُھنی جاتی ہے۔ اور ان پر اور ان کی عقل پر تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ان کے کلمات باطلہ