ربکم الأعلی، فما برّء وا أنفسہم بل سکتوا کالمفحَمین المُقِرّین۔ فوقعت علیہم الحجۃ وقام البرہان وثبت أنہم کانوا یعتقدون کما بیّن القرآن وکانوا مشرکین۔ ثم جاء بعدہم قوم آخرون من النصاری وقرأوا کتب الفلسفۃ فبُہتوا وصاروا کالسکاریٰ، ورأوا أنفسہم فی الشِرک کالأساری، فتأسّفوا علٰی مذہبہم متندمین۔ ففکَّروا لإصلاح ما فسد وترویج ما کسد، فقُتلوا کیف فکّروا وذُکِّروا وما بدّلوا إلا حُلَلَ المقاؔ ل مع اتحاد المآل، فتَعْسًا لقوم ظالمین۔ وغَشِیَہم ما غَشِیَہم من آفات الضلال، وتلاقَوا فی مآل الأقوال، وما کانوا مستشفّین۔ أسخطوا المولٰی لیُرضوا عبیدہ، ونسوا وعیدہ ومواعیدہ، ونبذوا وراء ظہورہم تعلیم النبیّین۔ ولا شک أنہم اتخذوا عیسٰی إلٰہًا من دون رب العالمین۔ وہو عندہم مالک یوم الدّین ویقولون پس وہ لوگ اپنے نفس کو اس الزام سے بری نہ کر سکے بلکہ وہ ایسے ساکت ہوئے جیسا کہ وہ شخص ساکت ہوتا ہے جس پر الزام وارد ہوتا ہے یا اقراری ہو جاتا ہے پس ان پر حجت واقع ہوئی اور دلیل قائم ہو گئی اور ان کی خاموشی سے ثابت ہو گیا کہ وہ ایسا ہی اعتقاد رکھتے تھے جیسا کہ قرآن نے فرمایا اور درحقیقت مشرک تھے۔ پھر ان لوگوں کے گذر جانے کے بعد دوسرے نصاریٰ دنیا میں ظاہر ہوئے اور وہ اپنے باپ دادوں کے آثار پر قائم تھے پس انہوں نے فلسفہ کی کتابیں پڑھیں اور ان کے مسائل سے عادت پکڑی اور اس کے کوچوں سے خُو پذیر ہو گئے اور اپنے تئیں دیکھا کہ اپنے مذہب میں خطا کی بلکہ نافرمانی کی سرکشی کی پس وہ مبہوت ہو گئے اور ایسے ہو گئے جیسا کہ کوئی نشہ میں ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے تئیں شرک میں مبتلا ایسا دیکھا جیسا کہ کوئی قیدی ہوتا ہے پس ان کو اپنے مذہب پر نہایت تاسف ہوا جو شرمندگی سے ملا تھا پس وہ اس سوچ میں لگے کہ کسی طرح اپنے ناپاک مذہب کی اصلاح کریں اور اس متاع کم قدر کو رواج دیں مگر خدا نے ان پر تباہی ڈالی انہوں نے اصلاح کے لئے صرف مکارانہ تدبیریں سوچیں اور ناپاک عقائد میں سے کچھ بھی نہ بدلا صرف تقریر کا پیرایہ بدلا دیا باوجودیکہ مآل ایک ہی تھا سو ظالموں کی ہلاکی ہو۔ کیسی گمراہیوں کی آفتوں نے ان کو گھیر لیا اور مآل قول میں اپنے پہلے بھائیوں میں متحد ہو گئے اور تعمیق نظر سے نہ دیکھا۔ مولیٰ کو ناراض کر دیا تاکہ اس کے بندوں کو راضی کریں اور خداتعالیٰ کے وعدے اور وعید بھلا دیے اور نبیوں کی تعلیموں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔ اور کچھ شک نہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو من دون اللّٰہخدا بنایا ہے۔ اور وہی ان کے نزدیک سزا جزا کا مالک ہے۔ اور کہتے ہیں کہ