لا أثر یومئذ معہ من البشریّۃ، مع کونہ مجسَّمًا ومرکّبًا من العظم واللحم کالآدمیین۔ ہذہ عقیدتہم وعقیدۃ الذین غلَّسوا قبلہم فی مبادی الأیّام أمام أعین الإسلام، ثم فی ہذا الزمن انفتحت أعینہم وقلّت ظلمتُہم بما شاعت فیہم العلوم العقلیۃ والحِکم الفلسفیۃ، فرأوا سَوء ۃَ مذہبہم واستحالۃ مطلبہم، فبادروا إلی التأویلات مخافۃً من الملامات والتشنیعات، وتخوّفًا من کلمات المستہزئین، لأنّ الفطرۃ الإنسانیۃ تأبی من قبول ہذہ العقیدۃ الدنیّۃ، والخرافات الردیّۃ الّتی ہی بدیہۃ البطلان عند الرجال والنسوان، خصوصًا فی ہذہ الأیام الّتی مالت العقول السلیمۃ إلی التوحید، وہبّتْ من کل طرف ریاحُ التنزیہ للّٰہ الوحید، وکسدتْ سُوقُ المشرکین۔ فأنّی لہم أن یخفوہا بعد إظہارہا ونشرہا وإزاحۃ قیامت کے دن اس کے ساتھ بشریت میں سے کوئی صفت نہ ہو گی یعنی سراسر وہ خدا ہی ہو گا باوجود اس کے جو اس کے ساتھ جسم بھی ہو گا اور ہڈیاں اور گوشت بھی۔ جیسا کہ انسانوں میں ہوتا ہے یہ ان کا عقیدہ ہے اور ان لوگوں کا عقیدہ جو ان سے پہلے شب تاریک میں چلے اور اسلام کی آنکھوں کے آگے اپنا فساد ظاہر کیا پھر جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اس زمانہ میں اُن کی آنکھیں کھلیں اور تاریکی کچھ کم ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں علوم عقلیہ اور حکم فلسفیہ شائع ہو گئے سو انہوں نے اپنے مذہب کے اور اپنے مطالب کے محالات کو مشاہدہ کیا پس وہ تاویلات کی طرف دوڑے تا ملامتوں اور تشنیعوں اور ٹھٹھا کرنے والوں سے اپنا بچاؤ کریں کیونکہ انسانی فطرت اس کمینہ عقیدہ اور خرافات ردّیہ کے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ وہ مَردوں اور عورتوں کے نزدیک بدیہی البطلان ہے خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ عقول سلیمہ توحید کی طرف مائل ہو گئی ہیں اور ہر ایک طرف سے تنزیہہ الٰہی کی ہوا چل رہی ہے اور مشرکوں کے بازار کسمپرسوں کا مصداق ہو گئے ہیں۔ مگر اب یہ کہاں ممکن ہے کہ وہ لوگ ان عقائد کو ان کے شائع ہونے کے بعد پوشیدہ