فلا یحسبہ شیطانا إلا الذی ہو شیطان لعین۔
ومن اعتراضات ہٰذا العاصی الغافل عن یوم یؤخذ المجرمون بالنواصی، أنہ یظنّ کأنّ
القرآن أخطأ فی بیان مذہب النصاریٰ وعقائدہم، وما فہِم مقصد عمائدہم، وعزا إلیہم ما یخالف عقیدۃ المسیحیین۔ فاعلم أنّ بیانہ ہذا بہتان عظیم وکذب مبین، والحق أن القرآن لما جاء کانت النصاریٰ فرقا
متفرقین، فبعضہم کانوا یعبدون المسیح، وبعضہم معہ أُمَّہ، وبعضہم کانوا یسجدون لتصاویرہما ویعبدونہما کعبادۃ رب العالمین۔ وکان اللجاج بینہم قد احتدّ والحِجَاج قد اشتدّ، وکان کلّہم قومًا ضالّین، إلا قلیلا
منہم کانوا موحِّدین مع بدعات أخری وکانوا کالعمین۔ فبیّن القرآن ما رأی وبَکَّتَہم وسَکَّتَہم ببیان أجلی، وقال أنتم تعبدون إنسانا من دون اللّٰہ الأغنٰی، وما تعبدون
اور گویا قرآن شریف نے نصاریٰ کے عمائد
کے مطلب کو نہیں سمجھا اور ان کی طرف وہ امر منسوب کیا جو ان کے عقائد کے
مخالف ہے۔ پس جاننا چاہیئے کہ یہ بیان اس کا سراسر بہتان اور صریح جھوٹ ہے اور
حق یہ ہے کہ جب
قرآن کریم نازل ہوا تو نصاریٰ کئی فرقے تھے اور بعض حضرت مسیح
اور ان کی والدہ کی پرستش کرتے تھے اور بعض ان کی تصویروں کے بھی پجاری تھے اور ان کی ایسی پرستش کرتے تھے
جیسی خداتعالیٰ کی کرنی چاہیئے اور ان میں باہم لڑائیاں اور جھگڑے بہت تیز ہوئے ہی تھے اور وہ سب کے سب گمراہ تھے۔ مگر تھوڑے ان میں سے موحد بھی تھے مگر انہوں نے اور اور بدعات
ساتھ ملا رکھی تھیں اور اندھوں کی طرح تھے سو قرآن نے جو دیکھا بیان کر دیا اور ظاہر ظاہر بیان سے ان کو ملزم اور لاجواب کیا اور اپنے لفظوں میں فرمایا کہ تم لوگ خداتعالیٰ کے سوا انسان کی
پرستش کرتے ہو اور اپنے رب اعلیٰ کی پرستش نہیں کرتے