ولا ینکرہا إلا الذی مِثلک غبی وشقی کعمین۔ ہٰذا ما أوردنا لإلزامک وإفحامک من نظائر المتقدمین وکلام المشہورین المقبولین۔ وأمّا ما یظہر من سیاق کلام اللّٰہ وسباقہ ومِن عقدِ درِّ حِقاقِہ، فہو طریق أقرب من ذلک للمسترشدین۔ فإنہ تعالٰی کما وصف روح القدس بقولہ 3، ۱؂ کذلک وصفہ فی مقام آخر بذی قوۃ فقال3،۲؂ فقولہ فی مقام ذُو مِرَّۃٍ وفی مقام ذُوقُوَّۃ شرح لطیف بأفانین البیان، وکذلک جرت سُنّۃ اللّٰہ فی القرآن، فإنہ یفسّر بعضَ مقاماتہ ببعض آخر لیزید الاطمئنان، ولیعصم کتابہ من تحریف الخائنین۔ ولقد ذکر اللّٰہ تعالی فی کتابہ المحکم وسِفرہ المکرم صفاتٍ أخری للروح الأمین، وبیّن عبارتہ وصدقہ وأمانتہ وقُربہ من رب العالمین داخل کیا ہے اورا س سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا بجز اس شخص کے جو تیرے جیسا غبی اور شقی اور اندھوں کی طرح ہو۔ یہ وہ نظائر شعراء متقدمین ہیں جن سے تیرا الزام اور افحام مقصود ہے مگر وہ امر جو کلامِ الٰہی کے سیاق سباق اور اس کے موتیوں کی لڑیوں کے حقہ سے معلوم ہوتا ہے تو وہ طریق ہدایت طلبوں کے لئے بہت قریب ہے۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہ‘ نے جیسا کہ روح القدس کو ذی مرّہ کے ساتھ موصوف کیا ہے اسی طرح دوسرے مقام میں ذی قوۃ کے ساتھ منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ ذو قوۃ عند ذی العرش المکین۔ پس خداتعالیٰ کا ایک مقام میں جبرئیل کو ذو مرّہ کہنا اور دوسرے مقام میں ذومرّہ کی جگہ ذو قوّۃ کہہ دینا یہذومرّہ کے معنے کی ایک شرح لطیف ہے جو تبدیل بیان سے کی گئی ہے اور اسی طرح قرآن کریم میں اللہ جلّ شانہٗ کی یہی سنت جاری ہے کہ بعض مقامات قرآن اس کے بعض آخر کے لئے بطور تفسیر ہیں تاکہ خداتعالیٰ اپنی کتاب کو خیانت کرنے والوں کی تحریف سے بچاوے۔ اور خداتعالیٰ نے اپنی محکم کتاب اور بزرگ صحیفوں میں روح القدس کے اور صفات بھی بیان کئے ہیں اور اس کی پاکیزگی اور اس کی سچائی اور اس کی امانت اور اس کے قرب کا ذکر کیا ہے پس اس کو شیطان وہی سمجھے گاجو خود شیطان ہے۔ اور منجملہ اعتراضات اس سرکش کے جو قیامت کے دن سے غافل ہے ایک یہ ہے کہ وہ گمان کرتا ہے کہ گویا قرآن کریم نے مذہب نصاریٰ کے بیان کرنے اور انکے عقیدوں کی تفسیر میں غلطی کی ہے