تصحیح النقل، فاعلم أنّ صاحب تاج العروس شارح القاموس فسّر لفظ ذی مِرّۃ بمعنی ذی الدہاء ، وقال یُقال إنہ لَذُو مِرَّۃ أی عقلٍ فی
مَثَلِ العرب العرباء وإن لم یکفِک ہذا المثل مع أنہ ہو الأصل، وتطلب منّا نظیرًا آخر من الأیام الجاہلیۃ والأزمنۃ الماضیۃ، فاقرأْ ہٰذا البیت من صاحب القصیدۃ الرابعۃ من السبع المعلّقۃ، وکان من نبغاء الزمان
وفی البلاغۃ إمام الأقران، وزاد عمرہ علی مءۃ وخمسین، وہو ہذا
رَجَعا بِأَمرِہِما إِلی ذی مِرَّۃٍ حَصِدٍ وَنُجْحُ صَریمۃٍ إِبرامُہا
واعلم أن ہذہ القصائد معروفۃ بغایۃ الاشتہار کالشمس فی نصف النہار، وقد
أجمع کافۃ الأدباء وجہابذ الشعراء علی فضلہا وکمال براعتہا، واتفق عامۃ البلغاء علی حسنہا ونباہتہا، واختارہا الحکومۃ الإنکلیزیۃ لطلباء مدارسہا وسُبقاءِ کوالجہا وشرؔ باء کَیالِجہا لتکمیل
القارئین
پس جاننا چاہیئے کہ صاحب تاج العروس نے جو شارح قاموس ہے لفظ
ذی مرّہکو بمعنے ذی عقل تفسیر کیا ہے اور تمثیل کے طور کہا ہے کہ عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ انہ لذو مرۃ
اور
مراد اس سے انہ لذو عقل رکھتے ہیں اور اگر تیرے لئے یہ مثال کافی نہ ہو حالانکہ وہ کافی ہے اور تُو ایامِ جاہلیت
کا کوئی شعر اس کی تائید میں طلب کرے تو یہ بیت غور سے پڑھ
جو
سبعہ معلقہ میں سے چوتھے قصیدہ کا شعر ہے جس کا مؤلف ادباء زمان
اور فصحاء اقران میں سے تھا اور ڈیڑھ سو برس کی عمر تک پہنچا تھا۔
وہ دونوں ذی مرّہ کی طرف یعنی ذی عقل کی طرف
متوجہ ہوئے اور قصد کو پختہ کرنے سے مقاصد حاصل ہو جایا کرتے ہیں اور جاننا چاہیئے کہ یہ قصائد غایت درجہ پر مشہور ہیں جیسے سورج دوپہر کے وقت
اور تمام جماعت فصیح شعراء نے
اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ اشعار فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر ہیں اور اس کے حسن اور خوبی پر شعراء کا اتفاق ہے اور گورنمنٹ انگریزی نے اس کتاب کو اپنے مدارس تعلیمیہ میں کالجوں
کے پڑھنے والوں اور علوم ادبیہ کے پیالے پینے والوں کے لئے ان کی تکمیل تعلیم کی غرض سے