وأمّا نظیرہ فی أشعار بُلغاء الجاہلیۃ ونبغاء الأزمنۃ الماضیۃ، فکفاک ما قال امرؤ القیس فی قصیدتہ اللامیّۃ
دَرِیرٍ کخُذْرُوفِ الوَلِیدِ
أَمَرَّہُ تَتابُعُ کَفَّیْہ بِخَیْطٍ مُوَصَّلِ
وکذٰلک بیت لعمرو بن کلثوم التغلبی الذی ہو نابغ فی اللسان العربی، وقال فی القصیدۃ الخامسۃ من السبع المعلقۃ، ونحن نکتبہ نظیرًا لمعنی الإدارۃ، وہو ہذا۔
تَرَی اللَّحِزَ
الشَّحِیحَ إِذا أُمِرَّتْ علیہ لما لہ فیہا مہینَا
ومن عجائب لفظ المِرّۃ اشتراکُہ فی العربیۃ والہندیۃ فی معنی الإدارۃ وإحکام الفتل بالمبالغۃ، فإن الہندیین یقولون للإمرار مروڑنا کما لا یخفی علی الہندیین۔ وہذا
ثبوت صرؔ یح من غیر شائبۃ المَین لاستخراج أصل حقیقۃ الذی ہو دائر بین اللسانَین، وفیہ نکتۃ تسرّ المحققین۔
وأمّا لفظ ذِی مِرَّۃ بمعنی العقل، فإن کُنْتَ تطلب منّا نظیرہ مع
لیکن اگر تو جاہلیت کے نا
می شعراء اور فصحاء کے اشعار میں سے اس کی نظیر طلب کرے پس تیرے لئے ایک
شعر امرء القیس کے قصیدہ لامیہ کا کافی ہے کیونکہ اس نے کہا ہے۔
امرّہ یعنی بٹ دیا اور مروڑ دیا
اور
اسی طرح عمرو بن کلثوم تغلبی کا ایک شعر ہے اور وہ بھی اپنے وقت کا بدیہہ گو شاعر تھا اور اس نے یہ شعر قصیدہ خامسہ سبعہ!معلقہ میں کہا ہے کہ
امرّت یعنی چکر دیا جائے اور پھرایا
جائے
اور لفظ مرّہ کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے معنے بٹ دینے اور مروڑ دینے میں عربی اور ہندی میں مشترک ہے
کیونکہ ہندی لوگ امرار کو مروڑنا کہتے ہیں جیسا کہ
ہندیوں پر
پوشیدہ نہیں۔ اور یہ صریح ثبوت بغیر شائبہ کسی تاریکی کے ہے اور اس اصل حقیقت کا استخراج
اس سے ہوتا ہے جو دو زبانوں میں دائر ہے اور اس میں ایک نکتہ ہے جو محققین کو خوش کرتا
ہے۔
لیکن لفظ ذی مرّۃ جو بمعنے عقل کے آتا ہے اگر تصحیح نقل کے لئے اس کی نظیر معلوم کرنا ہو