ذوی الأدب، أن أصل المِرّۃ إحکامُ الفَتْل وإدارۃ الخیوط عند الوصل، کما قال صاحب تاج العروس شارح القاموس، ثم نقلوا ہذا اللفظ
من الإحکام والإدارۃ إلی نتیجتہ أعنی إلی القوۃ والطاقۃ، فإن الحبل إذا أُحکِمَ فَتْلُہ فلا بد من أن یتقوّی بعد أن یُشَدّ ویُسَوَّی، ویکون کشیء قویّ متین۔ ثم نُقِلَ منہ إلی العقل کنقل الحقل إلی الحقل، لأن العقل طاقۃ
تحصل بعد إمرار مقدمات وإحکام مشاہدات تُجَلِّیہا الحسُّ المشترک من الحواسّ بإذن ربّ الناس وأحسن الخالقین۔ ثم نُقل ہذا اللفظ فی المرتبۃ الرابعۃ إلی مزاج من الأمزجۃ أعنی الصفراء التی ہی إحدی الطبائع
الأربعۃ، لشدّۃ قوتہا ولطافۃ مادتہا، ولکونہا مصدرَ أفعال قویّۃ وموجبًا لجُرأۃٍ وشجاعۃ وکلِّ أمر یخالف عاداتِ الجبان ویوافق سِیَر الشجعان، فتفکَّرْ إن کنتَ من الطالبین۔
تاگہ کو جب بٹ دے کر پختہ
کرتے ہیں تو اس پختہ کرنے کا نام مرّہ ہے اور مرّہ کے معنوں کااصل یہ ہے کہ اسقدر تاگہ کو بٹ چڑھایا جائے اور مروڑا جائے کہ وہ پختہ ہو جائے جیسا کہ یہی معنے صاحب تاج العروس شارح
القاموس نے کئے ہیں پھر اس لفظ کو مروڑنے اور بٹ چڑھانے سے منتقل کر کے اس کے نتیجہ کی طرف لے آئے یعنی قوت اور طاقت کی طرف جو بٹ چڑھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب تاگا
کو بٹ چڑھایا جاوے پس یہ ضروری امر ہے کہ بٹ چڑھانے کے بعد اس میں قوت اور طاقت پیدا ہو جائے اور ایک شے قوی متین ہو جائے۔ پھر یہ لفظ عقل کے معنوں کی طرف منتقل کیا گیا جیسا کہ
حقل کا لفظ جو بمعنی زمین خوش پاکیزہ ہے حقل یعنے کھیت نوسبزہ کی طرف منتقل ہو گیا کیونکہ عقل بھی ایک طاقت ہے جو بعد محکم کرنے مقدمات اور پختہ کرنے مشاہدات کے پیدا ہوتی ہے اور
حس مشترک ان مشاہدات کو حواس سے باذن رب الناس لیتی ہے۔ پھر یہ لفظ بمرتبہ رابعہ ایک بدنی مزاج کی طرف منتقل کیا گیا یعنی صفرا کی طرف جو طبائع اربعہ میں سے ایک ہے کیونکہ صفرا اپنی
شدت اور قوت اور لطافت میں باقی اخلاط سے بڑھ کر ہے اسی واسطے صاحب اس کا مصدر افعال قویہ اور جری اور شجاع ہوتا ہے اور اس سے ایسے امر صادر ہوتے ہیں جو بزدلی کے مخالف ہیں
پس تُو فکر کر اگر طالبِ حق ہے۔