لعنۃ اللّٰہ والملا ئکۃ والناس أجمعین۔ فَلْیَقُلْ القَوْمُ کلُّہم آمین آمین آمین۔ میں کہہ چکے ہیں اور اس پر خداتعالیٰ کی *** اور نیز اس کے تمام فرشتوں اور آدمیوں کی ہے۔ پس چاہیے کہ ساری قوم کہے آمین آمین آمین القصیدۃ فی فضائل القُرآنِ وشأن کتَاب اللّٰہ الرَّحمٰن قصیدہ قرآن کے فضائل اور کتاب اللہ کی شان میں لَمَّا أری الفرقانُ مَیْسمَہ تردَّی مَن طغی مَن کان نابِغَ وقتِہ جاء المواطنَ ألثغَا جب قرآن نے اپنی شکل دکھلائی تو ہر یک طاغی نیچے گر گیا جو شخص اپنے وقت کا فصیح اور جلد گو تھا وہ کُند زبان ہو کر میدان میں آیا وإذا أری وجہًا بأنوار الجمال مُصبَّغا فدَرَی المعارضُ أنہ ألغی الفصاحۃ أو لغا اور جب قرآن نے اپنا ایسا چہرہ دکھایا جو انوار جمال سے رنگین تھا تو معارض سمجھ گیا کہ وہ قرآن کے معارضہ میں فصاحت بلاغت سے دور ہے اور لغو بک رہا ہے من کان ذا عینِ النہی فإلی محاسنہ صغٰی إلّا الذی مِن جہلہ أبغی الضلالۃ أو بغٰی جو شخص عقلمند تھا وہ قرآن کے محاسن کی طرف مائل ہو گیا ہاں وہ باقی رہا جو گمراہی کا مددگار بنا اور ظلم اختیار کیا عینُ المعارف کلّہا آتا ہ حِبٌّ مُبتغٰی لا یُنبِئنّ ببحرہ الزخّار کلبًا مولغا تمام معارف کا چشمہ خداتعالیٰ نے قرآن کو دیا اور اس کے بحر زخّار سے اس کتے کو خبر نہیں دی جاتی جس کو تھوڑا سا پانی پلایا جاتا ہے اِقْبَلْ عیونَ علومہ أو أَعرِضَنْ مُستولِغا واتْبَعْ ہداہ أَوِ اعْصِہ إن کنتَ مُلْغًی مُتّغا اس کے علموں کے چشمے قبول کر یا بے حیا بیباک کی طرح کنارہ کر اور اسکی ہدایت کا فرمانبردار ہو جا یا اگر تُو احمق فحش گو اور دین کو تباہ کرنے والا ہے تو نافرمان بن جا ما غادرَ القرآنُ فی المیدان شابًا بُرْزَغا قتَل العِدا رعبًا وإن باری العدوّ مُسبَّغا قرآن نے میدان میں کسی ایسے جوان کو نہ چھوڑا جو جوانی میں بھرا ہوا تھا دشمنوں کو اپنے رعب سے قتل کیا اگرچہ دشمن زرہ پہن کر آیا قد أنکروا جہلًا وما بلغوہ علمًا مَبْلغًا حتی انثنَوا کالخائبین وأضرموا نار الوغی مخالفوں نے جہل سے انکار کیا اور اس کے مقام بلند تک ان کا علم نہ پہنچ سکا یہاں تک کہ مقابلہ سے نومید ہو گئے اور جنگ کی آگ کو بھڑکایا نورٌ علی نور ہُدًی، یومًا فیومًا فی الثغا مَن کان مُنکِرَ نورہ قد جئتُہ متفرّغا اس کی ہدایتیں نورٌ علیٰ نور ہیں اور دن بدن وہ نور زیادتی میں ہے اور جو شخص اس کے نور کا منکر ہے مَیں اسی کے لئے فارغ ہو کر آیا ہوں فیہا العلوم جمیعہا وحلیبُہا لمن ارتغا فیہا المعارف کلّہا وقلیبُہا بل أبلغا اس میں تمام علم ہیں اور اس میں علوم کا دودھ ہے اسی کے لئے جو اوپر کا حصہ کھا رہا ہے اور اس میں تمام معارف اور ان کا کنواں بلکہ اس سے زیادہ ہے أعطی الوری بدِلاۂ ماءً مَعینًا سیِّغَا أروی الخلائقَ کلّہم إلا لئیمًا أبْدَغا اس نے اپنے بوکوں کے ساتھ خلقت کو پانی خوشگوار پلایا اور تمام خلقت کو سیراب کیا بجز اس کے جو لئیم اور بدی سے آلودہ تھا مَنؔ جاء ہ متبختِرًا وأری مُدًی أو مِبْزَغا فتراہ مغلوبًا علٰی تُرْبِ الہوان ممرَّغا جو شخص اس کے آگے تکبر سے خراماں آیا اور اپنی کاردیں اور نشتر دکھلائے پس تو اس کو دیکھے گا کہ وہ مغلوب ہو گیا اور ذلت کی خاک پر لیٹا سیفٌ یکسّر ضرسَ مَن باری وجاء مُثَغْثِغا أسدٌ یمزّق صولُہ إن رَاغَ جملٌ أو رغا وہ ایک تلوار ہے جو اس کے دانت توڑتی ہے جو اس کے مقابل پر آیا وہ ایک شیر ہے جو اس کا حملہ اس اونٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے جس نے اس کی طرف منہ کیا یا آواز کی ویلٌ لِکَفّارٍ لدیغٍ لا یفارق مَلدَغا ویل لمن بزَغتْ لہ شمس فعادی مَبْزَغا اس کافر مارگزیدہ پر واویلا ہے جو اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہوتا جہاں سے کاٹا گیا اس شخص پر واویلا ہے جس کے لئے سورج چمکا اور پھر وہ مطلع الشمس سے دشمنی کرنے لگا مَن فرَّ من فیضانہ الأعلی ومما أفرغا ما کان قلبًا تائبا بل کان لحمًا أسْلَغا جو شخص اس کے فیضان سے اور فیضان شدہ باتوں سے بھاگا وہ رجوع کرنے والا دل نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا گوشت تھا جو گداز نہ ہوا وأمّا قول المعرض الفتّان أن ذی مِرَّۃٍ اسم الشیطان، وقال أن المِرّۃ ہی مادۃ الصفراء ، وباطل کل ما یخالفہ من الآراء ، فہذا کلّہ کذب ودجل وتلبیس، ونعوذ باللّٰہ من الدجّالین المفتّنین۔ بل الأمر الصحیح الذی یوجد نظائرہ فی کلماتِ بلغاء لسان العرب ونوابغ مگر معترض فتنہ انگیز کا یہ قول کہ ذی مرّۃ شیطان کا نام ہے اور جو اس نے کہا کہ مرّہ مادہ صفرا کو کہتے ہیں اور اس کے برخلاف ہر یک رائے باطل ہے پس یہ اس کا تمام کذب اور دجل اور تلبیس ہے اور دجالوں اور فتنہ انگیزوں سے خدا کی پناہ۔ بلکہ وہ امر صحیح جس کی نظیریں اہلِ زبان کے بلیغوں اور فصیحوں کے کلمات میں پائی جاتی ہیں یہ ہے کہ