واُشہِدُؔ الأحرارَ والأُساری، أنی أضَع البر!کۃَ واللعنۃ أمام النصاری، أما البر!کۃ فینالہم بر!کۃ الدنیا عند مقابلۃ الکتاب
وینالون إنعاما کثیرًا مع الفتح والغِلاب، أو ینالہم برکۃُ الآخرۃ عند التوبۃ وترکِ توہین القرآن وترک صفۃ السِّرحان، وأما اللعنۃ فلا یرد علیہم إلا عند إعراضِہم عن الجواب، ومع ذلک عدمِ امتناعہم عن الشتم
والسبّ والقدح فی کتاب رب الأرباب رب العالمین۔
واعلم أنّ کل من ہو مِن وُلْدِ الحلال، ولیس من ذرّیۃ البغایا ونسل الدجال، فیفعل أمرًا من أمرین إمّا کفُّ اللّسان بعدُ وترکُ الافتراء والمَین، وإما تألیف
الرسالۃ کرسالتنا وترصیع المقالۃ کمقالتنا، ولکن الذی ما ازدجر من القدح فی بلاغۃ القرآن، وما امتنع من الإنکار من فصاحۃ الفرقان، فعلیہ کل ما قلنا وکتبنا فی ہذا القرطاس، وعلیہ
اور میں آزادوں اور
قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ مَیں آج برکت اور *** نصاریٰ کے آگے رکھتا ہوں برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کو حاصل ہو گی اور وہ بہت سا انعام مع فتح اور غلبہ کے پائیں
گے یا برکت سے مراد آخرت کی برکت ہے کہ توبہ اور ترک توہین قرآن سے ان کو ملے گی مگر *** ان پر صرف اس حالت
میں وارد ہو گی کہ جب بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اور باوجود اس
کے
قرآن شریف کی توہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آویں۔
اور جاننا چاہیئے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں
اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے وہ دو باتوں میں سے
ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی
اور افترا سے باز آ جائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا
مگر وہ شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسا
رسالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی جرح قدح سے باز آیا
اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیجا کرنے سے اپنے تئیں روکا پس اس پر وہ سب باتیں وارد ہوں گی جو ہم اس رسالہ