کعلماء المسلمین ولسنا مِن السفہاء الجاہلین ولنا ید طولٰی فی تنقید جِدّ القول وہزلہ وتنقیح رقیق اللفظ وجزلہ - صادقین فی ہذا
الامتحان وسابقین فی ہذا المیدان، فلتُعْطِہم إنعامنا، ولیُکذَّبْ کلامنا، ولیُشَعْ کمالُ علمہم فی الدیار والبلدان، ولیشتہرْ فضائلہم إلٰی أقاصی البلدان، ولتُکتَب أسماء ہم فی الفاضلین۔ وإن لم تجدہم من العلماء والأدباء ،
بلؔ وجدتْہم معشرَ الجہلاء والسفہاء ، بعیدِین من ہذا الزُّلال مُبْعَدین عن مثل ہذا الکمال، فنرجو من عدل الحکومۃ البریطانیۃ أن تمنع بعدُ ہؤلاء الکذّابین مِن أن یسمّوا أنفسہم مولویّین، ویصولوا علی بلاغۃ کلام
اللّٰہ مع کونہم جاہلین۔
وأوّلُ مخاطَبِنا فی ہذہ الدعوۃ، ومَدْعوُّنا لہذہ المعرکۃ، صاحبُ التوزین
عماد الدین، فإنہ ینکر بلاغۃ القرآن وفصاحتہ، ویُرِی فی کلّ کتابٍ وقاحتہ
علماء کی طرح مولوی ہیں اور
نادان نہیں ہیں اور فصاحت اور عدم فصاحت میں فرق کرنے کے لئے
ہم میں مادہ ہے اور گورنمنٹ دیکھے کہ وہ اس میدان میں درحقیقت پیش دستی لے جانے والے ہیں
پس لازم ہوگا کہ گورنمنٹ
ہمارا انعام ان کو لے دے اور ہمیں کاذب خیال کرے اور ان کے کمال
علم کو ملکوں اور ولایتوں میں مشہور کرے اور دنیا کے کناروں تک ان کے فضائل مشتہر کر دے
اور ان کے نام فاضلوں میں
لکھ لے اور اگر گورنمنٹ ان کو ایسا نہ پاوے بلکہ
ان کو ایک جاہلوں کا گروہ پائے جو اس قسم کے کمالات سے دور و مہجور ہیں
پس ہم حکومت برطانیہ کے عدل اور انصاف سے امید رکھتے ہیں
کہ بعد اس کے
ان کذابوں کو اس بات سے منع کرے کہ اپنے تئیں مولوی کے نام سے موصوف کریں اور باوجود جاہل ہونے کے قرآن کریم کی بلاغت پر حملہ کریں۔
اور اس دعوت میں ہمارا اول
مخاطب اور اس معرکہ میں ہمارا اول مدعو پادری عماد الدین ہے
کیونکہ وہ قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت سے انکاری ہے اور اپنی ہر ایک کتاب میں بے حیائی