ویقول إنّی عالم جلیل ذہین، وإن القرآن لیس بفصیح بل لیس بصحیح، وما أریٰ فیہ بلاغۃً، ولا أجد براعۃً، کما ہو زعم الزاعمین۔ ویقول إنی سأکتب تفسیرہ، وکذلک نسمع تقاریرہ، فہو یدّعی کمالہ فی العربیۃ، ویسبّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم بکمال الوقاحۃ والفِرْیۃ، ویتزرّی علی کتاب اللّٰہ وعلی فصاحتہ، کأنہ عمُّ امرء القیس أو ابن خالتہ، ویسمّی نفسہ مولویًّا ویمشی کالمستکبرین۔ ثم بعد ذلک نخاطب کلَّ متنصّر ملقَّب بالمولوی، الذی کتبْنا اسمہ فی الہامش۱؂ وندعو کلّہم للمقابلۃ ولہم خمسۃ آلاف إنعامًا منّا إذا ؔ أَتوا بکتاب کمثل ہذا الکتاب، کما کتبنا من قبل فی ہذا الباب، دکھلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک عالم بزرگ ہوں اور قرآن فصیح نہیں ہے بلکہ صحیح بھی نہیں ہے اور میں اس میں کوئی بلاغت نہیں دیکھتا اور نہ فصاحت جیسا کہ خیال کیا گیا ہے اور کہتا ہے کہ میں عنقریب تفسیر شائع کروں گا اور ایسی ہی اور باتیں ہم اس کی سنتے ہیں اور وہ کمال عربی دانی کا دعویٰ کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بباعث بے شرمی اور دروغگوئی کے گالیاں نکالتا ہے اور قرآن شریف کی فصاحت کی ایسے دعویٰ سے اور غرور سے عیب جوئی کرتا ہے کہ گویا وہ امرا القیس کا چچا یا خالہ زاد بھائی ہے اور اپنا نام مولوی رکھتا ہے اورمتکبروں کی طرح چلتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہم ہر ایک کرشٹان کو جو اپنے تئیں مولوی کے نام سے موسوم کرتا ہے مخاطب کرتے ہیں اور ان سب کے نام ہم نے حاشیہ میں لکھ دیئے ہیں اور ہم ان سب کو مقابلہ کے لئے بلاتے ہیں اگر وہ ایسی کتاب بناویں تو ہماری طرف سے ان کو پانچ ہزار روپیہ انعام ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور بالمقابل کتاب تالیف کرنے والوں کے لئے ہماری طرف سے ۱؂ مولوی کرم الدین ۔ مولوی نظام الدین۔ مولوی الٰہی بخش۔ مولوی حمید اللہ خان۔ مولوی نور الدین۔ مولوی سید علی۔ مولوی عبداللہ بیگ۔ مولوی حسام الدین بمبئی۔ مولوی حسام الدین۔ مولوی نظام الدین۔ مولوی قاضی صفدر علی۔ مولوی عبدالرحمٰن۔ مولوی حسن علی وغیرہ وغیرہ۔