حَکَمًا لہذہ القضیۃ، ومخیَّرًا فی ہذہ الخطّۃ، ولہا أن تعطی إنعامنا کلَّ مَن باری کلامَنا وأری بوفق شرطنا نثرًا کنثرٍ ونظمًا کنظم فی
القدر
ؔ والعدّۃ والبلاغۃ والفصاحۃ والتزام الجدّ والحکمۃ، ہذا عہد منا، ولعنۃ اللّٰہ علی الناکثین۔ وللنصارٰی أن یتعاونوا لہذہ المقابلۃ ویقوموا متفقین لتلک المعرکۃ، ویکون بعضہم لبعض ظہیرًا، ولیستفسر
الجاہل خبیرا، ولیطلبوا لأنفسہم کل نصیر ومعین، وبعید وقرین، ومسیحَہم الّذی ہو ربٌّ فی أعینہم ولا رَبَّ إلا اللّٰہ قیّوم العالمین، ولیستمِدّوا مِن روحہم الذی کان یعلم الألسنۃ إن کانوا صادقین۔
ہٰذا ما رضینا
علیہ مِن طیب نفسنا وانشراح صدرنا، ورضینا بالحکومۃِ البَریطانِیۃِ أن تکون حَکَمًا بیننا وبینہم، فإن تجد ہؤلاء الذین یصولون علی بلاغۃ القرآن وفصاحتہ، ویقولون إنا نحن المولویون
کو اس مقدمہ کے
فیصلہ کرنے کے حکم مقرر کرتے ہیں اور حکومت انگریزی کو اختیار ہو گا کہ ہمارا انعام اس کو دے دے جو مقابلہ کے وقت پورا اتر آوے اور اس کی شرط کے موافق نظم اور نثر بنا لیوے۔ نظم اپنے
قدر اور بلاغت اور التزام حق
اور حکمت میں نظم کے مانند ہو اور نثر نثر کے مانند ہو اور خدا کی *** اُن پر جو عہد پورا نہ کریں۔
اور نصاریٰ کا اختیار ہو گا کہ اس مقابلہ میں ایک دوسرے کو
مدد دیویں اور سب متفق ہو کر اس معرکہ کے لئے اٹھیں اور
بعض بعض کے پشت پناہ بن جائیں اور ایک جاہل با خبر آدمی سے پوچھ لے اور دور و نزدیک سے ہر یک مددگار
اور معین اپنے لئے بلا
لیں اور مسیح سے بھی مدد لیں جو اُن کی نظر میں خدا ہے اور کوئی خدا نہیں بجز اس کے
جو قیوم العالمین ہے اور چاہیئے کہ اپنے اس روح القدس سے بھی مدد لیں جو بولیاں سکھاتا تھا
اگر
سچے ہیں۔
یہ وہ بات ہے جس پر ہم اپنے دل کی خوشی اور انشراح صدر سے راضی ہو گئے اور ہم اس بات پر
بھی راضی ہو گئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں حَکَم بن
جائے پس اگر گورنمنٹ ان لوگوں کو اپنے قولوں میں صادق پاوے جو قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت پر حملہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کے