الأجنبیۃ بل کلہا نتائج خاطری وثمار شجراء فکری؛ وما فعلتُ ہذا إلا لأسبُر بہ غَوْرَ عقلک ومقدار فضلک، وأریٰ مبلغ علمک وعذوبۃ منطقک، وأُرِیَ الخَلْقَ أإنّک صادق فی دعواک وأہلٌ لبلواک، وہل لک حق أن تصول علی کتاب اللّٰہ القرآن وبلاغتہ وسِفْرِ اللّٰہ الرحمٰن وریاغتہ کما أنت زعمت، أو من الکاذبین الدجالین۔ وإنی أُلہمتُ من ربی أنک لا تقدر علی ہذا النضال، ویبدی اللّٰہ عجزک ویخزیک ویُثبت أنک أسیر فی الجہل والضلال، ولو اجتمعتْ قومک معک علی ہذا الخیال، فترجعون مغلوبین۔ ہذا مع اعترافی بأن ہذہ الرسالۃ لیست سبّاقَ الغایات فی توشیح المقال، بل اقتضبتُہا علی جناح الاستعجال، وأعلم أن الإ تیان بمثلہا أمرٌ ہیّن علی الأدباء ، بل یکفی فی ہذا أد ؔ نَی التِفاتِ البلغاء ۔ فإن اتّسعتَ فی الأدب فلیس من التعجب أن تقول أحلی اجنبیہ نہیں لایا بلکہ وہ سب میری طبیعت کے نتیجے اور میری زمین کے پھل ہیں اور مَیں نے یہ اس لئے کیا کہ تا تیری عقل کا عمق اور تیری فضیلت کا مقدار آزماؤں اور تیرا اندازہ علم اور شیرینی کلام کو دیکھوں کیا تُو اپنے دعویٰ میں سچا اور اپنے شور و شر کا اہل ہے اور کیا تجھے حق ہے کہ تُو کتاب اللہ قرآن پر حملہ کرے اور خداتعالیٰ کے صحیفوں کی بلاغت اور اس کے میدان کشتی گاہ کی نسبت نکتہ چینی کرے سو مَیں نے چاہا کہ دیکھوں کہ تُو اپنے دعووں میں سچا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے اور مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ تو اس مقابلہ پر قادر نہیں ہو گا اور خداتعالیٰ تیرا عجز ظاہر کر دے گا اور تجھے رسو اکر دے گا اور ثابت کرے گا کہ تُو گمراہی میں اسیر ہے اور اگرچہ تیری قوم اس خیال مقابلہ میں تجھ سے متفق ہو جائے مگر آخر تم مغلوب ہو جاؤ گے یہ باوجود میرے اس اقرار کے ہے کہ یہ رسالہ اپنی بلاغت میں کوئی اعلیٰ درجہ کے کمال پر نہیں بلکہ مَیں نے جلد جلد اس کو گھسیٹ دیا ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ اس کی نظیر بنانا ادیبوں پر بہت ہی آسان ہے بلکہ اُن کی ادنیٰ التفات اس کی نظیر بنانے کے لئے کافی ہے پس اگر تُو فن ادب میں وسیع مہارت رکھتا ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ ا،س سے زیادہ تر شیریں