بعلمٍ قطعی أنک لا تعلم العربیۃ، ولا تستطیع أن تخترق فی مسالکہا وتنصلت فی سبلہا وسِککہا، وما فیک إلا حُمَۃُ لاسعٍ، لا حمیم فہمٍ
واسعٍ، فلا تَفْجُسْ ولا تَعْلُ یا أسفل السافلین۔ أأنت مع جہلک ہذا تقدَح فی القرآن، وتزری علی کتاب فاق فصاحتہ نوع الإنسان، ولا تری صورتک ولا تنظر إلی مبلغ علمک یا مضیّعَ العقل والدّین؟ وإن کنت تحسب
نفسک شیئا من الأشیاء ، وتظن أنک من الأدباء ، فہا أنا قمتُ لاستبراء زَنْدِک، واستشفافِ فِرِنْدِک، و اؔ بتدعتُ ہذہ الرسالۃ العُجالۃ فی العربیۃ لہذہ الأغراض الضروریۃ، وہی تحتوی علی غُرر البیان ودُررہ،
ومُلح الأدب ونوادرہ، ووشّحتُہا بمحاسن الکنایات وبترصیع لآلِی النکات فی العبارات، وفیہا کثیر من الأمثال العربیۃ، واللطائف الأدبیۃ، والأشعار المبتکَرۃ، والقصائد المحبَّرۃ، ولم أودعْہا من الأشعار
کے
ساتھ جان لیا کہ تُو زبان عربی بالکل نہیں جانتا اور تجھے طاقت نہیں کہ اس کے کوچوں میں چل سکے اور اس کی
تنگ راہوں میں گذر سکے اور تجھ میں تو صرف نیش نیش زنندہ ہے اور ایک قطرہ
بھی علم وسیع کے مینہ میں سے تیرے
پاس نہیں ہے پس تُو اے اسفل السافلین بزرگ منشی مت دکھلا۔ کیا تو باوجود اپنی اس نادانی کے قرآن میں جرح قدح
کرتا ہے اور اس کتاب کا عیب ڈھونڈتا ہے
جس کی فصاحت نوع انسان کی فصاحتوں پر غالب آ گئی اور
اپنی شکل کو نہیں دیکھتا اور اپنے اندازہ علم کی طرف نگاہ نہیں کرتا اے دین اور عقل کے دشمن یہ تو کیا کرتا ہے۔ اور اگر تو
اپنے
نفس کو کچھ چیز سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ تُو بھی ایک ادیبوں میں سے ہے پس خبردار ہو جا کہ تیری پتھری کی آگ
نکالنے کے لئے مَیں کھڑا ہو گیا ہوں اور تیری تلوار کا جوہر دیکھنے کے
لئے میں اٹھا ہوں اور رسالہ عجالہ کو مَیں نے
عربی میں اسی غرض سے تالیف کیا ہے اور یہ رسالہ نادر اور چمکیلے بیانوں سے پُر ہے جو موتیوں
کی طرح ہیں اور نیز ادب کی نمکین عبارتوں
پر مشتمل ہے اور مَیں نے اس کو بہت عمدہ کنایات اور نکات لطیفہ
کے موتیوں سے مرشح اور مرصع کیا ہے اور اس میں امثال عربیہ بہت ہیں اور لطائف
ادبیہ بکثرت ہیں اور اسی طرح اشعار
نو طرز اور خوبصورت قصیدے بھی اس میں ہیں اور میں اس کتاب میں اشعار