أو بیتین؟ فَإِنْ ادّعیتَ فَأْتِ ببرہان مبین۔ وأنت تعلم أنی خاطبتک فی البراہین إذ صُلتَ علی القرآن والدّین المتین، وما کان خطابی إلا
لِأُبْدِیَ علی الناس جہلَک الشدید، وذہنَک البلید، فقلتُ إن کنتَ تزعم أنک تعلم العربیۃ فأَرِنا مہارتک الأدبیۃ، ونحن نقصّ علیک قصّۃً فی لسان فتَرْجِمْہ فی العربیۃ بأحسن بیان إن کنت فیہا من الماہرین۔ وإن ترجمتَ
فلک خمسون روبیۃ إنعامًا، ثم نقرّ بفضلک ونکرمک إکرامًا، ونحسبُک من الفضلاء المسلمین المرتدّین۔۱ ولکنّک سکتَّ کالأنعام، وما مِلتَ إلی الإنعام، وما نبست بکلمۃ الخیر والشرّ خوفًا من ہتک الستر وفضوح
الحصر، فثبت أنک غبی قصیر الرسن، وما أصابک حظّ من اللسن، وما حرصتَ فی الإنعام لأنّک کنت جاہلًا کالأنعام، وما کان لک حظّ من العربیۃ بل ما کنت من الماسّین۔ فعلمتُ
پس اگر تُو دعویٰ کرے تو اس
بات کا ثبوت پیش کر۔ اور تجھے معلوم ہے کہ مَیں نے براہین میں بھی
تجھے مخاطب کیا تھا جبکہ تُو نے قرآن شریف پر اور دین اسلام پر حملہ کیا تھا اور میرا مخاطب کرنا صرف
اسی وجہ سے
تھا کہ تا تیرا کُند ذہن اور سخت جاہل ہونا لوگوں پر ظاہر کروں پس مَیں نے کہا کہ اگر
تُو یہ گمان کرتا ہے کہ تُو عربی جانتا ہے سو ہمیں اپنی مہارت ادبیہ دکھلاؤ اور ہم ایک قصہ کسی زبان میں تجھ
کو
سنائیں گے اور تجھ پر واجب ہو گا کہ تُو اس کی عبارت کو عربی بنا کر دکھلا دے
پھر ہم تمہاری بزرگی کے اقراری ہو جائیں گے اور تیری تعظیم کریں گے
اور تجھ کو متبحر فاضلوں
میں سے تسلیم کریں گے مگر تُو چارپاؤں کی طرح چپ ہو گیا
اور انعام لینے کی طرف رخ نہ کیا اور تُو جواب میں چپ ہی کر گیا نہ کچھ نیک کہا نہ بد کیونکہ اس میں
تیری پردہ دری اور رسوائی
تھی پس ثابت ہوا کہ تُو ایک غبی کم استعداد آدمی ہے اور تجھ کو عربی زبان سے
کچھ بھی حصہ نہیں اور تُو نے انعام لینے کی طرف رغبت نہ کی کیونکہ تُو ایک جاہل چارپاؤں کی طرح تھا
اور
عالموں میں سے نہیں تھا۔ پس مَیں نے قطعی علم