فی النظم والنثر من غیر مخافۃ اللَّوْم، مختارین غیر مضطرین۔ فلما کان مدار البلاغۃ علی ہذہ القاعدۃ فہذا ہو معیار الکلمات الصاعدۃ فی سماء البلاغۃ الراعدۃ، فلا حرج أن یکون لفظٌ من غیر اللسان مقبولًا فی أہل البیان، بل ربما یزید البلاغۃ من ہذا النہج فی بعض الأوقات، بل یستملحونہ فی بعض المقامات، ویتلذذون بہ أہلُ الأفانین۔ ولٰکنّک رجلٌ غَمْرٌ جَہولٌ، ومع ذلک معاندٌ وعَجولٌ، فلأجل ذلک ما تعلم شیئا غیر حقدک وجہلک، وما تضع قدمًا إلا فی دَحْلِک، ولا تدری ما لسان العرب وما الفصاحۃ، ولا تصدر منک إلا الوقاحۃ، وما لُقِّنْتَ إلا سبّ المطہَّرین۔ فاترُکْ أیہا الغافل سیرۃ الأشرار، واستحِ وانظرْ وجہک فی مرآۃ الأفکار۔ ہل قرأتَ شیئا فی مدّۃ عمرک من فن الأدب، أو عرفت فی طرقہ أفانینَ الوہد والحدب، أو ألّفتَ قطُّ بین کلمتین، ونظمتَ بیتًا استعمال اپنی نظم اور نثر میں جائز رکھے ہوں اور کسی ملامت سے نہ ڈرے ہوں اور نہ کسی اضطرار سے وہ الفاظ استعمال کیے ہوں پس جبکہ بلاغت کا مدار اسی قاعدہ پر ہوا پس یہی قاعدہ ان عبارات بلیغہ کے لئے معیار ہے جو فصاحت کے آسمان پر چڑھے ہوئے اور بلندی میں گرج رہے ہیں پس اس بات میں کچھ بھی حرج نہیں کہ ایک غیر زبان کا لفظ ہو مگر بلغاء نے اس کو قبول کر لیا ہو بلکہ اس طریق سے تو بسا اوقات بلاغت بڑھ جاتی ہے اور کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے بلکہ بعض مقامات میں اس طرز کو فصیح اور بلیغ لوگ ملیح اور نمکین سمجھتے ہیں اور تفنّن عبارات کے عشاق اس سے لذت اٹھاتے ہیں مگر تُو تو اے معترض ایک غبی اور جاہل ہے اور باوجود اس کے تُو جلد باز اور دشمن حق ہے اسی لئے تو بغیر کینہ اور جہل کے اور کچھ نہیں جانتا اور بغیر گڑھے کے اور کسی جگہ قدم نہیں رکھتا اور تُو نہیں جانتا کہ زبان عرب کیا شے ہے اور فصاحت کسے کہتے ہیں اور صرف بے حیائی تجھ میں ہے نہ اور کوئی لیاقت اور تجھ کو تو کسی نے سکھایا ہے کہ تُو پاکوں کو گالیاں دیتا رہے۔ سو اے غافل شریروں کی خصلت چھوڑ دے اور کچھ شرم کر اور ذرا اپنے منہ کو فکر کے شیشہ میں دیکھ کہ کیا تو نے مدت عمر میں کبھی فن ادب سے کچھ پڑھا ہے یا رنگینی عبارات کے نشیب و فراز تجھے معلوم ہیں یا کبھی تو نے دو عربی کلموں کو جوڑا یا ایک دو بیت بنائے