وما فاہُوا بکلامٍ فی جرح بیانہ، ونسوا جمال الفکر فی میدانہ، ثم رجعوا مرعوبین نادمین، وأکثرہم کانوا یبکون عند سماعہ ویسجدون
باکین۔
ہٰذا ما نجد فی القرآن الکریم وأحادیث النبیّ الرؤوف الرّحیم، إیمانًا ودیانۃً وصدقًا وأمانۃً، وما نجد کلمۃً خلاف ذلک من أسلاف النصاری أو المشرکین، وکانوا خیرا منکم فی تنقید الکلمات یا معشر
الجاہلین۔ وأما ما ظننتَ أن فی القرآن بعض ألفاظ غیر لسان قریش، فقد قلتَ ہذا اللفظ من جہل وطیش، وما کنت من المتبصرین۔ اعلم أیہا الغبی والجہول الدنیّ، أن مدار الفصاحۃ علی ألفاظ مقبولۃ سواء کانت
من لسان القوم أو مِن کلمٍ منقولۃ مستعمَلۃ فی بلغاء القوم غیرِ مجہولۃ، وسواء کانت من لغۃ قوم واحد ومن محاوراتہم علی الدوام، أو خالطَہا ألفاظٌ استحلاہا بلغاءُ القومؔ ، واستعملوہا
میں وہ کوئی کلمہ
منہ پر نہ لائے اور اس کی جرح میں انہوں نے کوئی بات منہ سے نہ نکالی اور اس کے میدان میں انہوں نے فکر کے اونٹ دوڑائے تو سہی مگر خوفناک اور شرمندہ ہو کر رجوع کیا اور اکثر ان کے
قرآن کو سن کر روتے اور سجدہ کرتے تھے۔
یہ وہ بیان ہے جو ہم قرآن کریم میں پاتے اور نبی رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں پڑھتے ہیں
اور ہم نے اس کو ایماناً اور دیانتاً اورامانتاً
لکھا ہے اور ہم اس کے برخلاف کوئی ایسا قول بھی نہیں پاتے جو اس وقت نصاریٰ
اور مشرکوں کے منہ سے قرآن کی شان کے برخلاف نکلا ہو اور اے نادانو وہ نصاریٰ قرآن کی پرکھ میں تم سے
بہتر تھے۔
اور یہ جو تُو نے خیال کیا کہ قرآن میں بعض ایسے الفاظ ہیں کہ وہ زبان قریش کے مخالف ہیں سو
یہ بات تیری سراسر جہل اور نفسانی جوش سے ہے اور بصیرت کی راہ سے
نہیں۔
اے غبی اور سفلہ نادان تجھے معلوم ہو کہ فصاحت کا مدار الفاظ مقبولہ پر ہوا کرتا ہے
خواہ وہ کلمات قوم کی اصل زبان میں سے ہوں یا ایسے کلمات منقولہ ہوں جو بلغاء قوم کے استعمال
میں
آ گئے ہوں اور خواہ وہ ایک ہی قوم کی لغت میں سے ہوں اور ان کے دائمی محاورات
میں سے ہوں یا ایسے الفاظ اُن میں مل گئے ہوں جو قوم کے بلغاء کو شیریں معلوم ہوئے اور انہوں نے ان
کے