بصحیح، ولا نجد فیہ غیر المعانی المطروقۃ الموارد والکلام الرقیق البارد، وما جئت بأطیب وأحلی، وفیہ ألفاظ کذا وکذا، وإنک
أسقطتَ فی کلامک وباعدتَ عن مرامک، ولست من المُجیدین؛ فلا حاجۃ إلی أن نأ تی بمثلہ من الأقوال، أو نتوازن فی المقال، ونتحاذٰی حذو النعال، فإلیک عنّا وتجافَ، واترُک الأوصاف، فإن کلامک سَقََط عند
الأدباء المشہورین والفصحاء الماہرین۔ ولکنہم ما سرَوا ذلک المسری، وما قدحوا فی ہذا الدعوی، بل قبِلوا أعلٰی مرا تب بلاغتہ، وعجبوا لعلوِّ شأنِ فصاحتہ، وقالوا إنْ ہذا إلّا سحرٌ مبین۔ وأکثرؔ ہم آمنوا
بإعجازہ وأقرّوا بتناوُش بازِہ، وعجزوا عن درکِ ہِنْدازِہ، وقالوا کلامٌ فاقَ کلماتِ البشر، وکلُّہ لُبٌّ ولیس معہ شیء من القشر، وعلیہ طلاوۃ، وفیہ حلاوۃ، وہو غَدَق لا ینفد مِن شُرب الشاربین۔ وما نبسوا بکلمۃ فی
قدح شأنہ
صحیح بھی نہیں ہے اور اس میں معانی مطروقہ الموارد پائے جاتے ہیں اور اس میں الفاظ رقیقہ
موجود ہیں اور تُو نے اپنی کلام میں غلطی کی ہے اور مطلب سے دور جا پڑا
ہے اور
کوئی نکتہ تیری کلام میں نہیں بلکہ اس میں تو ایسے ایسے لفظ ہیں پس کچھ حاجت نہیں
کہ ہم اس کی کوئی نظیر بناویں یا اس سے نعل بنعل مقابلہ کریں ہم سے الگ ہو اور اپنی کلام کی
تعریفیں
چھوڑ دے کیونکہ تیرا کلام مشہور ادیبوں کے نزدیک
ردّی ہے مگر کفار عرب اس راہ نہیں چلے اور اس دعویٰ میں انہوں نے کچھ
جرح قدح نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو قرآن کے اعلیٰ مراتب
بلاغت کو قبول کر لیا اور اس کی عظیم الشان فصاحت سے تعجب
میں رہ گئے اور کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ اور اکثر ان کے اس قرآنی معجزہ پر ایمان لائے اوراقرار کر لیا کہ اس کے باز کی
سخت پکڑیں ہیں اور اس کی حقیقت کی دریافت سے عاجز رہ گئے اور کہا کہ یہ ایک کلام ہے کہ کلمات بشر پر غالب آ گیا اور وہ سارے کا سارا مغز ہے اور اس کے ساتھ چھلکا نہیں اور اس پر ایک
آب و تاب ہے اور اس میں ایک حلاوت ہے اور وہ ایک بے اندازہ اور بکثرت مصفا پانی ہے جو پینے والوں کے پینے سے ختم نہیں ہوتا۔ اور قرآن کے قدح شان