المقابلۃ وولّوا الدبر کالمغلوبین۔ ولما عجزوا عن النضال فی البیان، مالوا إلی السیف والسنان، متندمین مغتاظین وکثیر منہم أسلموا
نظرًا علی ہذہ المعجزۃ کلبید بن ربیعۃ العامری، صاحبِ المعلقۃ الرابعۃ، فإنہؔ أدرک الإسلام وتشرّفَ بہ وأری الإخلاصَ التّام، ومات سنۃ إحدی وأربعین۔ وکذٰلک کثیر منہم أقرّوا بأنّ القرآن مملوٌّ من
العبارات المہذَّبۃ، والاستعارات المستعذَبۃ، والأفانین المستملَحۃ، والمضامین الحِکمیۃ الموشَّحۃ، بل مَن أمعنَ منہم النظرَ فسعی إلی الإسلام وحضر ودخل فی المؤمنین۔ فلو کان القرآن متنزلًا من أعلی مدارج
الکمال فی فصاحۃ المقال وبلاغۃ الأقوال، لکان الأمر أسہل علی المخالفین، ولقالوا أیہا الرجل إن الکلام الذی عرضتَ علینا والحدیث الذی أتیتَہ لدینا لیس بفصیح بل لیس
اور مغلوب ہو کر پیٹھیں پھیر لیں
اور جب خوش تقریری کی لڑائیوں سے عاجز آ گئے
تو شرمندہ اور غضبناک ہو کر تلوار اور نیزہ کی طرف جھک گئے اور بہت سے ان میں سے
اعجاز بلاغت قرآن کو تسلیم کر کے ایمان لائے
جیسا کہ لبید بن ربیعۃ العامری جو معلقہ رابعہ کا مصنف
ہے اس نے اسلام کا زمانہ پایا اور مشرف باسلام ہوا اور پورا اخلاص دکھایا اور
سن اکتالیس میں فوت ہوا۔ اور اسی طرح بہتوں نے ان
میں سے قرآن شریف کی بلاغت
فصاحت کو قبول کر لیا اور اقرار کر لیا کہ درحقیقت قرآن عبارات پاکیزہ سے پُر اور شیریں استعارات سے مالا مال
اور ملیح تقریروں اور آراستہ اور حکمیہ
مضمونوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ جس نے اس میں نظر غور کی
سو وہ اسلام کی طرف دوڑا اور ایمان والوں میں داخل ہوا۔ پس اگر قرآن
فصاحت بلاغت کے اعلیٰ مدارج سے متنزل ہوتا تو مخالفوں
پر بات
بہت آسان ہو جاتی۔ اور وہ کہہ سکتے تھے کہ اے مرد جو کلام تُو نے پیش کی ہے
اور جو بات تُو لایا ہے وہ فصیح نہیں ہے بلکہ