ودُرَرِہ وثمار الکلام وزہرہ، وکانوا یناضلون بالقصائد المبتکَرۃ والخطب المحبَّرۃ، ولکن ما کان لہم أن یتکلموا فی اللطائف الحِکْمیۃ، وما مسّتْ بیانَہم رائحۃُ المعارف الإلہیّۃ، بل کان مسرح أفکارہم إلی الأبیات العشقیۃ، والأضاحیک الملہیۃ، وما کانوا علی ترصیعِ مضامین الحِکم قادرین۔ وکانوا قد مرنوا من سنین علی أنواع النظم والنثّر ولطائف البیان، وسُلِّموا وقُبِلوا فی الأقران، وکانوا أہل اللسان وسوابق المیادین۔ فخاطبہم اللّٰہ وقال وقال فعجِز الکفار عن اور نیز کلام کے پھلوں اور پھولوں پر ناز کرتے تھے اور ان کی لڑائیاں نو ایجاد قصیدوں اور پاکیزہ خطبوں کے ساتھ ہوتی تھیں مگر ان کو لطائف حکمیہ میں بات کرنے کا سلیقہ نہ تھا اور ان کے بیان کو معارفِ الٰہیہ کی بُو بھی نہیں پہنچی تھی بلکہ ان کے فکروں کا چراگاہ صرف عشقیہ شعروں اور ہنسانے والے اور غافل کرنے والے بیتوں تک تھا اور مضامین حکمیہ کی مرصع نگاری پر وہ قادر نہ تھے حالانکہ وہ ایک زمانہ سے نظم اور نثر اور لطائف بیان کرنے کے مشتاق تھے اور اپنے ہم جنسوں میں مسلم اور مقبول تھے اور اہل زبان اور میدانوں میں سبقت کرنے والے تھے۔ پس خداتعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تمہیں اس کلام میں شک ہوجو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو تم بھی کوئی سورت اس کی مانند بنا کر لاؤ اور اگر بنا نہ سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے سو اس آگ سے ڈرو جس کے ہیزم افروختنی آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔ اور فرمایا کہ اگر تمام جن و انس اس بات کے لئے اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنا لاویں تو ہرگز نہیں لا سکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ پس کفار مقابلہ سے عاجز آ گئے