أسالیب لسان العرب وطرق بلاغۃ المقال؟ بل أظن أنک لا تعرف حرفا من العربیۃ، فکیف اجترأت علی ہذہ الغَذْمرۃ الکریہۃ؟ أتصول أیہا الجاہل الکاہل علی الذی أفحمَ أکابرَ بلغاء الزمان، وأتمّ الحجۃ علی فصحاء أہل اللسان، وخضعتْ لہ أعناق الأدباء ، وآمن بہ نوابغ الشعراء ، وجاء وا خاضعین مقرّین؟ أأنت أسبَقُ منہم فی معرفۃ مواد الأقاویل وتمییز الصحیح من العلیل، أو أنت من المجنونین؟ ألا تعلم أنہم کانوا أہل اللسان، وقد غُذُّوا بلبان البیان، وکان یُصبون القلوب بأفانین العبارات ومُلح الأدب ونوادر الإشارات، وکانوا فی ہذہ السکک وعلمِ محاسنہا من الماہرین؟ ألستَ تعلم أن القرآن ما ادّعی إعجاز البلاغۃ إلا فی الریاغۃ، فإن العرب فی زمانہ کانوا فصحاء العصر وبلغاء الدہر، وکان مدار تفاخُرہم علی غُرَر البیان تجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ لسان عرب کے اسلوب کیا ہیں اور بلاغت کی راہیں کون سی ہیں بلکہ میں گمان کرتا ہوں کہ تو عربی کا ایک حرف بھی نہیں جانتا۔ پس کیونکر تو نے اس آوازِ مکروہ پر جرأت کی اے جاہل کاہل کیا تو اس کلام پر حملہ کرتا ہے جس نے بڑے بڑے بلغاءِ زمانہ کو ساکت کر دیا اور زمانہ کے مشہور فصیحوں پر اپنی حجت پوری کی اور ادیبوں کی گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور شعراء میں بڑے بڑے نابغہ اس پر ایمان لائے اور اقراری اور فروتن بن کر اس کی طرف رجوع کر لیا کیا زبان شناسی میں تو ان سے بڑھا ہوا ہے اور صحیح اور غیر صحیح میں فرق کرنے میں تو زیادہ طاقت رکھتا ہے یا تو دیوانہ ہے ۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ وہ لوگ اہل زبان تھے اور خوش تقریری کے دودھ سے پرورش یافتہ تھے اور رنگا رنگ کی عبارات اور عجیب اشارات سے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے اور ان کوچوں میں اور علم محاسن بیان میں ماہر تھے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ قرآن نے اعجاز بلاغت کا دعویٰ کشتی گاہ کے میدان میں کیا ہے کیونکہ عرب اس کے زمانہ میں فصحاء عصر اور بلغاء دہر تھے اور ان کے باہم فخر کرنے کا مدار فصیح اور با آب و تاب تقریروں پر تھا