الخوارق من الرحمٰن بل من الشیطان، ومعک شیطان من الشیاطین۔ ثم إن کان ہذا ہو الحق أعنی إذا فرضنا أن القوۃ کلہ للشیطان
الذلیل، فما جاء فی الإنجیل بکمال التفصیل أن یسوع رجع بقوۃ الروح إلی الجلیل لا یکون صحیحًا، بل کذبًا صریحًا وتحریف المحرفین، ویکون المراد من الروح شیطانًا من الشیاطین۔
ثم إنک ظننت أن القرآن
لیس فی بلاغتہ إلی حد الإعجاز، بل یوجد فیہ رائحۃ التکلف والارتماز، ولا یمیز رقیقَ اللفظ من الجَزْل، والجِدَّ منؔ الہزل، وفیہ ألفاظ و!حشیۃ وکلمات أجنبیۃ، ولیس بعربی مبین۔ أما الجواب فاعلم أن ہذا
القول منک ومن أمثالک أعجبُ العجائب وأعظم الغرائب، ولا یرضی بہ أحد من المنْصِفین۔ ألا تعلم یا مسکین أنک رجل من الجہّال، وما تدری إلا مکائد الضلال، ولا تعلم
سے نشان نہیں دکھلاتا بلکہ ایک
شیطان کی مدد سے دکھاتا ہے۔
پھر اگر ہم فرض کریں کہ سب قوت شیطان ہی کو ہے تو اس
صورت میں انجیل کا وہ فقرہ صحیح نہ ہو گا جو یسوع گلیل کی طرف روح کی قوت سے گیا تھا
بلکہ کہنا پڑے گا کہ روح سے مراد
شیطان ہے۔
پھر تو نے یہ گمان کیا ہے کہ قرآن اپنی بلاغت میں حد اعجاز تک نہیں بلکہ
اس میں تکلف اور اضطراب کی بو پائی جاتی ہے اور وہ ہزل اور
رقیق لفظوں سے
خالی نہیں اور اس میں وحشی الفاظ اور اجنبی کلمات ہیں اور فصیح عربی
نہیںَ سو اب میں تیرا جواب لکھتا ہوں پس جان کہ یہ قول تجھ سے اور اوروں سے جو تیری مانند
ہیں
نہایت عجیب ہے اور کوئی منصف اس سے راضی نہیں ہو گا۔
اے مسکین تُو تو نادانوں میں سے ایک نادان آدمی ہے اور بجز گمراہی کے فریبوں کے اور کچھ تجھے معلوم نہیں اور