قیاسہ علی أفضل الرسل وخیر الأنبیاء ، فقیاس مع الفارق وبعید عن الحیاء وقد قال نبیّنا صلی اللّٰہ علیہ و سلم لِعُمَرَ ما لقِیک الشیطان
فی فَجٍّ إلا سلَک فجًّا غیر فجّک، ویثبت من ہذا الدلیل أن الشیطان یفرّ منؔ عمر کالجبان الذلیل، وأما المسیح فیسمّی أفضل صحابتہ شیطانا فی الإنجیل، فانظر الفرقَ بینہما خائفا من الرب الجلیل، ولا تبادر إلی سبل
الشیاطین۔ ثم إذا کانت القوۃ کلّہ للشیطان فما بال إلٰہکم الضعیف الذی ما لہ قِبَلٌ بہذا السر!حان، بل تبِعہ کالمغلوب أو کمحتاج ذی الکروب، وقادہ الشیطان بمکر عجیب، ودعاہ إلی إغرار غریب۔ والعجب أنہ
مع دعاوی الألوہیّۃ وإدلال الإبنیّۃ، تبِعہ بحسن الظن وما فہِم أنہ حُوَّلٌ قُلَّبٌ، ووعدہ بَرْقٌ خُلَّبٌ، وہو رئیس الکاذبین۔ وأنتم تعلمون الیہود کانوا یقولون للمسیح إنک ما تُری
شدید القویٰ کا قیاس آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم پر کرنا قیاس مع الفارق ہے اور ایسا قیاس
حیا سے بعید ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو کہا تھا کہ اگر شیطان تجھ کو کسی راہ
میں پاوے تو دوسری راہ اختیار
کرے اور تجھ سے ڈرے۔ اور اس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان
حضرت عمر سے ایک نامرد ذلیل کی طرح بھاگتا ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے بڑے صحابی کو شیطان فرمایا
پس خدا کے
خوف سے دیکھ کہ ان دونوں باتوں میں کس قدر فرق ہے اور شیطانوں کی راہ
کی طرف مت دوڑ۔ پھر جبکہ تمام قوتیں شیطان کے لئے ہی ٹھہریں تو تمہارے اس کمزور خدا کا
کیا حال ہے جو اس
سے مقابلہ نہ کر سکا بلکہ ایک مغلوب اور حاجت مند کی طرح اس کے پیچھے
لگ گیا اور ایک مکر عجیب کے ساتھ شیطان نے اس کو کھینچا اور ایک عجیب دھوکا کی طرف اس کو بلایا
اور تعجب
کہ وہ باوجود خدائی کے دعوے اور ابن اللہ ہونے کے ناز کے پیچھے لگ گیا
اور نہ سمجھا کہ وہ بڑا حیلہ ساز اور مُتفنی ہے اور اس کا وعدہ برق بے باران ہے اور وہ
جھوٹوں کا سردار ہے۔ اور
تم جانتے ہو کہ یہود مسیح کو کہا کرتے تھے کہ توخداتعالیٰ کی طرف