و اؔ ستنبط من قصّۃ إبلیس إذا أتی المسیح کالفیل، وقادہ بقوتہ العظمٰی إلٰی بعض جبال الجلیل، وجرّبہ بالأباطیل، وما استطاع المسیح
أن لا یمیل إلیہ مِن قَوْدِہ، ولا یخطو إلی طَودہ، ویأخذ بفَودہ، ویزیل لظاہ بجَودہ، بل مشی تِلْوَہ کالضعفاء المستضعفین۔ فإن کان مبدأ الوہم ہذا الخیال، کما أنی أخال، فلا نُنکر واقعۃ المسیح، ونؤمن بہ کالأمر
الصحیح، ونقرّ بأن شیطان ذٰلک المسیح کان شدید القوی، فلذٰلک قادہ إلی جبال عُلی، وقال اسجدنی۱ ، أعطیک دولۃ عظمٰی، ومُلکًا لا یبلٰی، وطمِع فی إیمان ضعیفٍ غریب، ووثب علیہ کذئب رغیب، وما ترکہ إلا
إلٰی حین ولفظ الحین موجود فی إنجیل لوقا بالیقین، فلینظر من کان من المرتابین۔ ولا شک أن الشیطان إذا أتی بعد زمان، فعلّم التثلیث عند لقاءٍ ثان، وأہلک الہالکین، لأن اللقاء کان من مواعید الشیطان اللعین۔
وأما
یا اس خیال کو مسیح کے اس قصہ سے استنباط کیا ہے جب شیطان ہاتھی کی طرح اس کے پا س آیا اور ایک بڑی قوت
کے ساتھ گلیل کے ایک پہاڑ پر اس کو لے گیا اور اپنے اباطیل کے ساتھ
اس کی آزمائش کی اور مسیح سے یہ نہ ہوا کہ
اس کی طرف جانے سے اپنے تئیں روک لے اور اس کے پہاڑ کی طرف قدم نہ اٹھا وے اور اس کے سر کو پکڑ لے اور
اور اپنے منہ سے اس کی
آگ کو نابود کرے بلکہ مسیح تو اس کے پیچھے کمزوروں کی طرح چل پڑا پس اگر اس وہم کا اصل موجب یہی خیال ہے جیسا کہ میں گمان کرتا ہوں پس ہم اس واقعہ سے انکار نہیں کرتے اور امر
صحیح کی طرح اس کو مان لیتے ہیں اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ ایسے مسیح کا شیطان درحقیقت شدید القویٰ ہی تھا اسی وجہ سے تو وہ اس کو پہاڑوں
کی طرف کھینچ کر لے گیا اور کہا کہ مجھے
سجدہ کر تجھے دولت اور بڑا ملک دوں گا اور ایک ضعیف
غریب آدمی کے ایمان میں اس نے طمع کی اور حرص کی وجہ سے بھیڑئیے کی طرح اس پر حملہ کیا اور پھر اس سے
دوبارہ آنے کا
پختہ ارادہ رکھ کر دور ہو گیا اور حین کا لفظ انجیل لوقا میں بالیقین موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
اور کچھ شک نہیں کہ جب شیطان دوسری مرتبہ آیا تو اس نے تثلیث سکھلائی
اور مرنے
والوں کو مارا کیونکہ دوسری مرتبہ آنا شیطان کا وعدہ تھا مگر مسیح کے شیطان