ہلاکت کا منہ دکھایا یہاں پادری صاحب کی تصانیف یعنی تاریخ محمدیؐ اور ہدایۃ المسلمین اور تفسیر مکاشفات امن عامہ کی
خلل اندازی میں کس لئے ناکام رہیں پنجابی مسلمان مفلس کم ہمت اور اکثر جاہل ہیں یا وہ اُن کو سمجھتے نہیں اور صرف مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علت غائی پر تصنیف کی
گئی ہیں۔ اگر بفرض محال وہ سارے الزامات سچے بھی سمجھے جاویں تاہم بیچارے پادری صاحب کے کام تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے اعتراض سے محفوظ نہیں کیونکہ اس میں ہر ایسے فعل کا
رفاہ عامہ کی نیت سے ہونا مستثنیٰ کے لئے مشروط ہے۔ مندرجہ بالا فقرے ہم نے اخبار آفتاب پنجاب جلد ۲ نمبر ۳۹ سے انتخاب کئے ہیں جس بنا پر اخبار مذکور کے ایڈیٹر صاحب نے
وہ تمام
مضمون لکھا ہے ہم اس سے صرف مقتبس فقروں کی نسبت اپنا اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور جو شکایت صاحب موصوف پادری عماد الدین کی تصنیفات کے بارہ میں کرتےؔ ہیں بلحاظ ملکی مصلحتوں کے
ہم اتنا زیادہ کہتے ہیں کہ اس کی تصانیف سے جس کا حوالہ اوپر درج ہے بلاشبہ مُلکی امن میں خلل پڑ سکتا ہے اور وہ کچھ عجیب ڈھنگ سے مرتب ہوئی ہیں کہ جن کو فی الجملہ شرارت انگیز بلکہ
شرر خیز کہنا ذرا بھی غیر حق بات نہیں۔ ایسے ایسے ملکی شور و شر کے حق میں جو اس قسم کی کتابوں سے پیدا ہوتا ہے بقول وقائع نگار موصوف کے سرکار کی طرف سے مناسب انتظام لا بُد ہے۔
ہم بتلا سکتے ہیں کہ دانشمند گورنمنٹ نے اس طرح کے معاملات میں دخل دیا ہے۔ چنانچہ اسی ہندوستان کے اندر لارڈ وِلزلے صاحب سابق گورنر جنرل نے ۱۷۹۸ ء میں ہندوؤں کی رسم جَل پَروا کو
حکماً بند کر دیا اور ۱۸۲۷ ء کے اندر لارڈ ولیم بنٹنگ صاحب گورنر جنرل نے ستی کی قدیم رسم کو قانون مرتب کر کے موقوف کروا دیا۔ گورنمنٹ اس بات کو معلوم کر لے کہ کیوں ہندوستان کے
مسیحی مصنفوں میں سے تمام لوگ پادری عماد الدین کو ہی انگشت نما کرتے ہیں اس کی یہ وجہ ہے کہ وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ میری تالیفات سے عام لوگ مذہبی ولولہ میں آ کر اور حرارت سے
مغلوب ہو کر بے ادائیاں کریں اور سرکار میں مُفسد شمار ہو جاویں۔ ہم نے سنا ہے کہ پنجاب ٹریکٹ سوسائٹی کی پبلشنگ کمیٹی نے شورش انگیز کتاب مذکور کے دوسرے حصہ کو اسی وجہ سے
نامنظور کیا ہے کہ اس میں پہلے حصہ سے زیادہ دل شکن باتیں درج ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو بہت خوب کیا۔‘‘ انتہیٰ تمام ہوئی عبارت ہندو پرکاش۔