بما فیہ صدقا وحقا، فأیّ حرج علیہ وأیّ ضَیْرٍ إنْ ترَک روایات أخری التی تُخالف بیّناتِ القرآن ولیست ثابتۃ من رسول اللّٰہ بثبوت
قطعی یقینی الذی یُساوی ثبوت القرآن وتواتُرَہ، أو ترَک مثلًا معانی تُخالف نصوصہ، واختار الموافق ولو بالتأویل؟ بل ہذا مِن سِیَر الصالحین المتقین ومِن سِیَر الصدّیقۃِ رضی اللّٰہ عنہا أُمِّ المؤمنین۔ فالواجب
علی المؤمن المسلم المتورع الذی یتقی اللّٰہ حق التقاۃ، أنؔ یعتصم بحبل اللّٰہ القرآن ولا یبالی غیرَہ الذی یخالفہ، وإذا رأی وانکشف علیہ أن بعض العلماء من السلف أو الخلف غلطوا فی فہم أمر فلیس من
دیانتہٖ أن یتبع أغلاطہم، ویقبلہا بغضّ البصر، ولا یفارقہا بتفہیمِ مُفہِّمٍ، ویرسو علیہا أبدًا، ولا یلتفت إلی الحق الذی حصحص والرشد الذی تبیّنَ۔ فإن أمرًا إذا ثبت فلا بد من
باتوں پر ایمان لایا اور سچ
اور حق سمجھ لیا پس اس پر کونسا حرج اور کونسا مضائقہ ہے اگر وہ ایسی روایتوں کو
چھوڑ دے جو قرآن کے کھلے کھلے بیانات کی مخالف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے
قطعی اور
یقینی طور سے ثابت نہیں جو قرآن کے ثبوت اور تواتر سے برابری کر سکے یا مثلاً کوئی ایسے معانی ترک کرے
جو نصوص قرآنیہ کے مخالف ہیں اور وہ معنے اختیار کرے جو اس
کے موافق ہیں اگرچہ تاویل سے ہی سہی بلکہ یہ تو
نیک بختوں اور متقیوں کا طریق ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مادر مومناں کے طریق اور خصلت میں سے
ہے پس ایسے
شخص پر جو مومن مسلمان پرہیز گار ہے اور خدا سے جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے ڈرتا ہے واجب ہے۔
جو حبل اللہ سے جو قرآن ہے پنجہ مارے اور اس کے غیر کی کچھ پرواہ نہ کرے جو اس کا
مخالف ہے اور جب دیکھے اور جب
اس پر کھلے کہ بعض علماء سلف میں سے یا خلف میں سے کسی بات کے سمجھنے میں غلطی میں پڑ گئے ہیں
تو اس کی دیانت سے بعید ہوگا کہ ان کی
غلطیوں کی پیروی کرے اور آنکھ بند کرکے ان کو
قبول کر لیوے اور کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے باز نہ آوے اور ہمیشہ انہیں غلطیوں پر اڑا رہے اور اس
سچائی کی طرف جو کھل
گئی اور اس ہدایت کی طرف جو ظاہر ہو گئی التفات نہ کرے کیونکہ جب ایک امر ثابت ہوگیا تو