لا یُنکرہ أحد إلا الذی ما بقی فی رأسہ مِرّۃٌ إنسانیۃ ولحِق بالأخسرین السافلین۔ ولا یقول أحد کمثل ہذہ الکلمات إلا الذی نسی طریق التوحید ومال إلی الجاہلیۃ الأولی، وما بلغ نظرہ إلی نتائجہا الضروریۃ ومفاسدہا المخفیۃؔ ، أو الذی رسا علی جہلہ عمدًا وغرق فی لُجّۃ التقلید غرقًا، حتی فقد أثر حریۃ الإنسانیۃ، وسقط فی شبکۃٍ لا تخلُّصَ منہا، وتابَعَ أَثَرَ إبلیس اللعین۔ والذی آمنَ بالقرآن وألقی نفسہ تحت ہدایاتہ فلن یرضی بمثل ہذہ العقائد، بل لا یسوغ لہ قولٌ یُخالف القرآن بالبداہۃ ویُعارض بیّناتہ ومُحکَماتہ صریحا۔ وأیُّ ذنب أکبر من ذٰلک أن أحدًا یؤمن بالقرآن ثم یرجع ویُنکر بعضہدایاتہ، ویتّبع المتشابہات ویترک المحکمات، ویحرّف القرآن ویغیّر معانیہ من مرکزہا المستقیم، ویؤیّد بأقوالہ قومًا مشرکین؟ ولکن الذی تمسّکَ بکتاب اللّٰہ وآمن اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا بجز ایسے شخص کے جس کے سر میں انسانی دانشمندی کا مادہ نہیں رہا اور زیاں کاروں اور تحت الثریٰ جانے والوں کے ساتھ جا ملا۔ اور ایسی باتیں کوئی منہ پر نہیں لائے گا مگر وہی جو توحید کی راہ کو بھول گیا اور پہلی جاہلیت کی طرف مائل ہوگیا اور اس کی نظر ان عقیدوں کے لازمی نتیجوں اور چھپے ہوئے فسادوں تک نہیں پہنچ سکی یا وہ شخص ایسے کلمات کہے گا جو جہالت کی باتوں پر اڑ بیٹھا اور تقلید کے دریا میں غرق ہوگیا یہاں تک کہ انسانی آزادی کے نام و نشان کو کھو بیٹھااور ایسے جال میں پھنس گیا جس میں سے نجات نہیں اور ابلیس لعین کے نشان قدم کا پیرو ہوگیا اور وہ شخص جو قرآن پر ایمان لایا اور اس کی ہدایتوں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا سو وہ ایسے عقائد پر کبھی راضی نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی باتوں کو جو صریح قرآن کے مخالف اور اس کی محکم آیتوں کے کھلے کھلے معارض ہیں ناجائر سمجھے گا اور اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہوگا کہ ایک شخص قرآن پر ایمان لا کر پھر رجوع کرے اور اس کی بعض ہدایتوں سے انکاری ہو جائے اور متشابہات کی پیروی کرنے لگے اور محکمات کو چھوڑ دے اور قرآن کی تحریف کرے اور اس کے معانی کو ان کے مرکز مستقیم سے پھیر دے اور اپنی باتوں سے مشرکوں کو مدد دے۔ مگر وہ شخص جس نے کتاب اللہ سے پنجہ مارا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب