قبولہ ولا مفرّ منہ۔ مثلًا جاء فی حدیث رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا عَدْوَی۔ أی لا تُجاوِزُ علّۃٌ من مریض إلی غیرہ، ولا یُعدِی شیءٌ شیءًا، ولکن التجارب الطبیّۃ قد أثبتتْ خلاف ذلک، ونحن نریٰ بأعیننا أن بعض الأمراض، مثلًا داء الجمرۃ التی یُقال لہا فی الفارسیّۃ آتشک یُعدی من امرأۃ مُبتلاۃٍ بہذا المرض رجلا ینکحہا وبالعکس۔ وکذلک نری فی عمل الإبرۃ الذی مبنی علی خمیرِ مادۃِ مجدَّرٍ فإنہ یُبدی آثار الجُدری فی المعمول فیہ۔ فہذا ہو العدوٰی، فکیف ننکرہ؟ فإن إنکارہ إنکارُ علومٍ حسّیۃ بدیہیۃ التی ثبتت عند مُجرّبی صناعۃِ الطبّ، وما بَقِیَ فیہا شک للأطفال اللاعبین فی السکک فضلًا عن رجال عاقلین۔ فلا بُدّ لنا من أن نؤوّل ہٰذاؔ الحدیث ونصرفہ إلٰی معان لا تخالف الحقیقۃ الثابتۃ اس کے قبول کرنے سے چارہ نہیں اور اس سے کوئی گریز گاہ نہیں مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لاعدویٰ یعنے ایک مرض دوسرے کو نہیں لگتی یعنے تجاوز نہیں کرتی ایک چیز دوسری تک لاکن طبی تجارب سے اس کے مخالف ثابت ہوگیا اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ بعض مرضیں مثلاً آتشک کی بیماری ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے اور ایک آتشک زدہ عورت سے مرد کو آتشک ہو جاتی ہے اور ایسا ہی مرد سے عورت کو اور یہی صورت ٹیکا لگانے میں بھی مشاہدہ ہوتی ہے کیونکہ جس پر چیچک والے کے خمیر سے ٹیکا کا عمل کیا جاوے اس کے بدن پر بھی آثار چیچک ظاہر ہو جاتے ہیں پس یہی توعدوی ہے سو ہم کیوں کر اس کا انکار کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا انکار علوم حسیہ بدیہیہ کا انکار ہے جو تجارب طبیہ سے ثابت ہو چکے ہیں اور ان میں ان بچوں کو بھی شک نہیں رہا جو کوچوں میں کھیلتے پھرتے ہیں چہ جائے کہ عقلمند مردوں کو کچھ شک ہو ۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس حدیث کی تاویل کریں اور ان معانی کی طرف پھیر دیں جو ثابت شدہ حقیقت کے مخالف نہیں