من غوائلہ، ونشکو إلیہ من رذائلہ، وما نری أن ینزع عن الغی بغیر الکیّ، وکذلک کانت سِیر المفسدین۔
وقد صدق فیہ أخوہ الحَفِیُّ
والودود الولیُّ، القسیس رجب علی، قال قد صنّف أخونا عماد الدین کتبًا فی ردّ الإسلام، وأشاع دلائل التثلیث فی الخواص والعوام، فبما کانت دلائلہ مجموعۃ الأباطیل بعیدۃ من تنقید الدلیل، ندِمنا غایۃ الندامۃ،
وصِرْنا ہدف الملامۃ، وما وسِعنا بعدہا استحیاءً أن نُرِیَ وجوہَنا المسلمین۔۱
وأما استدلالہ من لفظ شدید القویٰ علی الشیطان، ووہمُہ أن القوۃ کلہ لہذا السرحان، لا للّٰہِ ولا لِمَلَکِ الرحمٰن، فلأجل ذلک خُصّ
بہذا الاسم فی القرآن، فلا نفہم سرّ ہذہ الأقاویل، ولا نجد فیہا رائحۃ من الدلیل؛ فلعلہ کذلک قرأ فی الإنجیل
اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے اور اس شخص کی بلاؤں سے ہم اس کی پناہ مانگتے ہیں اور
اس کی بدیوں سے ہم اس کی طرف شکوہ لے جاتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ یہ شخص بغیر کسی داغ کے اپنی گمراہی سے باز آ جائے۔ اور مفسدوں کی یہی خصلت ہوا کرتی ہے۔
’’اور اس کے
بارے میں اس کے بھائی مہربان اور دوست پادری رجب علی نے سچ کہا ہے چنانچہ اس کا
قول ہے کہ جب سے ہمارا بھائی عماد الدین اسلام کے رد میں کتابیں تالیف کرنے لگا اور تثلیث کے دلائل
شائع کئے
سو اس سبب سے کہ وہ دلائل مجموعہ اباطیل تھے اور ان میں کوئی بھی سچی دلیل نہیں تھی
ہمیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑا اور ہم ملامت کے نشانہ ٹھہر گئے اور بعد اس کے ہم مارے
شرم کے
ایسے ہو گئے کہ اس قابل نہ رہے کہ مسلمانوں کو اپنا منہ دکھا سکیں۔‘‘
مگر اس شخص کا شدید القویٰ کے لفظ سے شیطان پر استدلال پکڑنا اور یہ وہم کرنا کہ شدید القویٰ
اس لئے
قرآن میں شیطان کا نام ہے کہ تمام قوتیں اسی بھیڑئیے کو حاصل ہیں نہ خداتعالیٰ کو اور نہ اس کے کسی
فرشتہ کو حاصل ہیں سو ہم اس کے اس قول کا بھید نہیں سمجھتے
اور ہم اس میں کسی دلیل
کی بو نہیں پاتے پس اس نے شاید اسی طرح انجیل میں پڑھا ہے