واتّباع الہوی وبتأویلات بعیدۃ ومکائد عُظمٰی، وآذی قلوب المؤمنین، وکذلک ترَک الحیاء ، ووَدَّعَ الارْعِواء ، وحسِب أفضلَ الرسل کالمجنون، وتباعدَ عن الحق تباعُدَ الضبّ من النون، وعادَی المصلحین اللامّین۔ واعترض علٰی فصاحۃ صحف اللّٰہ القرآن وبلاغۃ حبل اللّٰہ الفرقان، ظلمًا وزورًا، لیرضی قومًا بورًا، مع أنہ کان من الجاہلین العمین۔ وواللّٰہ إنہ جہول لا یعلم لسان العرب وطرق بیانہ، ولیس فیہ جوہر سوی حصائد لسانہ، ولأجل ذلک لا یوجد فی کتبہ شیء من غیر سبّہ وہذیانہ، وما وسِعہ کتمانُ الحق وتخطءۃُ الأَولی الأحقِّ، فعدا کالعِدا إلی التوہین۔ وماؔ قرأنا کتابًا أغیَظَ من کتبہ، وما رأینا عُبابًا أکثرَ مِن عَبَبِ کذبہ، وما سمعنا سبًّا أکبر من سبّہ، ولا خَبًّا کخبِّہ، فنأوی إلی اللّٰہ مِن جُبِّہ وہو خیر الناصرین۔ ونعوذ بہ ہوا پرستی کی وجہ سے تاویل کی ہے اور تاویلات بعیدہ اور فریبوں سے کچھ کا کچھ بنایا ہے اور مومنوں کے دل کو دکھ دیا ہے۔ اسی طرح اس نے حیا کو ترک کیا اور شرم کو رخصت کیا اور افضل الرسل کی نسبت یہ گمان کیا کہ نعوذ باللہ ان کو جنّ کا آسیب تھا۔ اور حق سے ایسا دور جا پڑا جیسا کہ سوسمار جو خشک زمین میں رہتی ہے مچھلی سے جو پانی میں رہتی ہے دور رہتی ہے اور نیک کاموں کے حامی مصلحوں کی دشمنی اختیار کی اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت پر اعتراض کیا تا ان باتوں سے ایک ہلاک شدہ قوم کو خوش کرے حالانکہ یہ شخص جاہل اور اندھوں کی طرح ہے اور بخدا یہ شخص سراسر نادان اور زبان عرب سے کچھ بھی واقف نہیں اور سوا زبان درازی کے اس میں کچھ بھی جوہر نہیں اس لئے اس کی کتابوں میں بغیر گالیوں اور بکواس کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ تو اس سے نہ ہو سکا کہ حق کو پوشیدہ اور اس میں کچھ نقص ثابت کرے پس وہ لاچار ہو کر دشمنوں کی طرح توہین کی طرف دوڑا اور ہم نے کوئی ایسی کتاب نہیں پڑھی جو اس کی کتاب سے زیادہ غصہ دلانے والی ہو اور نہ کوئی سیلاب دیکھا جو اس کے جھوٹ سے زیادہ ہو اور اس کی گالیوں جیسی کسی کی گالیاں نہیں سنیں اور اس کے فریبوں جیسا کسی میں فریب نہ دیکھا۔ پس اس کے فتنہ سے ہم خداتعالیٰ کی طرف پناہ لے جاتے ہیں